
اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی رہنما اور سابق وزیر ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کی موجودہ لہر امریکا کو خطے میں واپس لانے اور فوجی اڈے دینے کی ایک کوشش ہے۔ انہیں شک ہے کہ پاکستان میں جان بوجھ کر عدم استحکام پیدا کیا جا رہا ہے تا کہ امریکا کو فوجی اڈے دیے جا سکیں۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ حکمرانوں کے پاس حالات سے نمٹنے کا کوئی واضح لائحہ عمل نہیں ہے۔ ان کی حکومت نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی پر امن واپسی کے لیے حکمت عملی کا فیصلہ کر لیا تھا اور فوجی قیادت سے کہا تھا کہ مقامی عوامی نمائندوں سے مل کر اس کا طریقہ کار طے کریں۔ جس کے بعد ان کی حکومت ختم کر دی گئی۔ انہوں نے وزیر خارجہ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ امریکا کو اڈے دلوانے کے خواہشمند ہیں۔ امپورٹڈ وزیر خارجہ کا واحد مقصد یہ ہے کہ امریکا کو کس طرح پاکستانی سرحدوں پر واپس لے آئیں اور ان کو اڈے دے دیں۔ دفتر خارجہ بالکل تباہ ہو چکا ہے۔ افغانستان پر کوئی ہماری پالیسی نہیں ہے، اگر ہے کوئی تو بڑی چھپی ہوئی ہے۔ دفتر خارجہ تو کھیل سے بالکل باہر ہے۔


































