Sat Oct 10, 2026

امریکا نے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کردیں امریکی حکام تہذیبی جنگ کا بیانیہ بنانے سے قبل ماضی کے واقعات کا مطالعہ کریں، محسن رضائی ٹرمپ نے ایران سے جنگ چھیڑ کر امریکا کو رسوا کیا، امریکی سینیٹر گلگت بلتستان کے وسائل پر کسی بیرونی طاقت کو اثر انداز نہیں ہونے دیں گے، مرکزی انجمن امامیہ ٹرمپ کی پھر رسوائی، امن کا نوبل انعام انسانی حقوق کی وکیل ناوی پلے کے نام آبنائے ہرمز میں ایل پی جی گیس بردار جہاز پر حملہ، آگ لگ گئی پاکستان ہر خطرے کے مقابلے میں سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا رہے گا، وزیراعظم سعودی عرب انصار اللہ کے خلاف جنگ میں ایک بار پھر ماضی کے دلدل میں داخل ہو چکا ہے، نیویارک ٹائمز طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع مکہ معاہدہ ، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج آبنائے ہرمز میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کا حق نہیں، جنرل احمد وحیدی حالیہ جنگوں میں فورسز کا امن و امان قائم رکھنے میں کردار بے مثال رہا، ولی امر مسلمین ترکیہ کا فوجی دستے سعودیہ بھیجنے سے انکار، مکہ معاہدہ پارلیمنٹ میں لایا جائیگا، وزیرخارجہ انصار اللہ کے حملے میں سعودی طیارہ تباہ اسرائیل کو ایران پر ممکنہ حملے کیلئے تیار رہنے کی ہدایت

روزانہ کی خبریں

عدم مساوات کی موجودہ عالمی صورتحال دنیا کی غریب عوام اور قوموں کیخلاف معاشی تشدد کی ایک شکل ہے، آکسفیم انٹرنیشنل

آکسفیم انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق کورونا وبا کے دوران 10 امیر ترین افراد کی دولت دوگنی ہو گئی ہے، عدم مساوات ایک اہم وجہ قرار جس کے باعث دنیا میں یومیہ 21 ہزار 300 افراد ہلاک ہوئے۔ الجزیرہ کی رپورٹ میں آکسفیم انٹرنیشنل کے حوالے سے کہا گیا کہ ہم بے مثال تشویش کے ساتھ 2022 میں داخل ہورہے ہیں یہ دلیل پیش کرتے ہوئے کہ انتہائی عدم مساوات کی موجودہ عالمی حالت دنیا کے غریب ترین لوگوں اور قوموں کے خلاف معاشی تشدد کی ایک شکل ہے۔ رپورٹ کے مطابق لاکھوں لوگ آج بھی زندہ ہوتے اگر ان کے پاس ویکسین ہوتی لیکن وہ مر چکے ہیں، بڑی فارماسیوٹیکل کارپوریشنز ان ٹیکنالوجیز پر اجارہ داری کا کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
آکسفیم انٹرنیشنل کے اعداد وشمار کے مطابق 252 مردوں کے پاس افریقہ اور لاطینی امریکا سمیت کیریبین کی مجموعی طور پر ایک ارب خواتین سے زیادہ دولت ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ وبائی مرض کے دوران جہاں امیر بہت زیادہ امیر ہو گئے، وہیں 99 فیصد انسانیت کی آمدنی کو نقصان پہنچا۔ آکسفیم کی رپورٹ عام طور پر سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ہونے والے ورلڈ اکنامک فورم (ڈبلیو ای ایف) کے سالانہ اجلاس سے پہلے جاری کی جاتی ہے لیکن دنیا کے امیر ترین اور طاقتور افراد کا اجتماع اس سال وبائی امراض کی وجہ سے دوبارہ ملتوی کر دیا گیا ہے۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular