
تحریر: سید رضا میر طاهر
غزہ پٹی میں تنازعات کے جاری رہنے اور صیہونی حکومت کے ہاتھوں فلسطینیوں بالخصوص بچوں اور خواتین کے روزانہ قتل کے باعث عالمی سطح پر فلسطینی کاز کی حمایت اور اسرائیل کے مجرمانہ اقدامات کی مذمت کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے اور یہ مسئلہ خاص طور پر صیہونی حکومت اور ان کے مغربی حامیوں کے لئے قابل قبول نہیں ہے۔ اس عوامی حمایت نے سینیئر یورپی حکام کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ خاص طور پر حالیہ دنوں میں برطانیہ سمیت یورپی ممالک میں فلسطینیوں کی حمایت اور صیہونیوں کے جرائم سے بیزاری کا اظہار کرنے کے لیے کئی عوامی مظاہرے کیے گئے ہیں۔
پیر کے روز برطانیہ کی وزیر داخلہ سویلا بریورمین نے اپنے بیانات میں فلسطین کے حامیوں کے مظاہرے کو نفرت انگیز مارچ سے تعبیر کیا، جو اس ملک میں صیہونی مخالف تحریکوں میں اضافے پر لندن حکومت کے غصے اور مایوسی کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے۔ براورمن نے کہا، "گذشتہ ہفتے کے آخر میں، ہم نے دسیوں ہزار لوگوں کو سڑکوں پر یہ مطالبہ کرتے ہوئے دیکھا ہے کہ اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے۔” انہوں نے مزید کہا: "میری رائے میں، ان مارچوں کو بیان کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ یہ کہ: "یہ نفرت کے مارچ ہیں۔”
فلسطین کیلئے برطانوی حمایت
برطانوی حکومت کی طرف سے اس ملک میں صیہونی مخالف اجتماعات کے خلاف سخت پابندیوں کے باوجود گذشتہ تین ہفتوں کے دوران فلسطین کے حامیوں نے مختلف شہروں میں متعدد احتجاجی مظاہرے کیے ہیں، جن میں سے ایک ہفتے کے روز لندن میں وحشیانہ جرائم کے خلاف احتجاج تھا، جس میں پانچ لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی۔ مظاہرین نے غزہ میں صیہونی حکومت کے مظالم کی مذمت کی۔ اس احتجاجی مظاہرے کے شرکاء نے غزہ میں فوری جنگ بندی، اس خطے میں انسانی امداد بھیجنے اور فلسطین کی مکمل آزادی کے حق میں نعرے لگائے۔
انسانی حقوق کے تحفظ کے بارے میں یورپی حکومتوں کا دعویٰ جھوٹ پر مبنی ہے
یہ صرف برطانیہ تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ جرمنی، فرانس، اسپین، اٹلی اور یونان جیسے ممالک میں حالیہ ہفتوں میں اسی طرح کے بڑے عوامی مظاہرے ہوئے ہیں۔ یورپی حکام اور حکومتوں نے ایسے مظاہروں کو روکنے کے لیے وسیع پیمانے پر کوششیں کی ہیں اور اسرائیل کی حمایت کے سلسلے میں فلسطینی حامیوں کو دھمکیاں اور سزائیں بھی دی ہیں، لیکن مغربی ممالک کی حکومتوں کو اس حوالے سے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سے انسانی حقوق کے تحفظ اور آزادی اظہار کے حوالے سے یورپی حکومتوں کے جھوٹے دعوے ایک بار پھر ظاہر ہوگئے ہیں۔ سیاسی آزادیوں اور آزادی اظہار کے حوالے سے یورپی ممالک کے دوہرے معیارات پر ایک نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ صرف اس وقت لاگو ہوتا ہے، جب مغرب کے زیر غور مسائل بشمول اسلامو فوبیا اور اسلام دشمنی اور مسلمانوں کے مقدسات کی توہین کی جائے۔
دوسرے معاملات میں جیسے کہ ہولوکاسٹ کا مسئلہ ہو یا صیہونی حکومت کے مجرمانہ اقدامات پر سوال اٹھانا یا فلسطینیوں اور فلسطینی کاز کی حمایت کرنا ہو تو اس وقت سیاسی آزادی اور آزادی اظہار پس منظر میں چلا جاتا ہے اور یہی مغربی ممالک شدید ردعمل اور دھمکیوں اور سزاؤں کا سلسلہ شروع کر دیتے ہیں۔ سینیئر پولیس افسران کو لکھے گئے ایک خط میں برطانوی وزیر داخلہ سویلا بریورمین نے کہا ہے کہ فلسطینی پرچم بلند کرنا یا فلسطینی آزادی کی حمایت میں نعرے لگانا جرم تصور کیا جا ئے گا، اسی طرح فلسطینی پرچم لہرانا یا ایسا ترانہ یا گیت گانا جو یہودیوں کو "ہراساں کرنے یا دھمکانے کا سبب بنے جرم ہوگا۔
یورپی پارلیمنٹ میں اسپین کے نمائندے "مانیو پنڈا” کا فلسطینی رومال پہننا پارلیمنٹ کے اراکین کو برداشت نہ ہوا اور ان کی تقریر میں رکاوٹ ڈال کر فلسطینی اسکارف اتارنے پر مجبور کر دیا، فلسطین اور غزہ کے عوام کی حمایت میں فٹ بال کے مشہور کھلاڑی کریم بینزیما کی حمایتی ٹویٹ پر فرانسیسی حکومت اور حکام کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا اور ان پر اخوان المسلمون سے تعلق کا الزام عائد کر دیا گیا۔ فرانسیسی سینیٹر ویلری بوئیر نے بیلن ڈی واپس لینے اور کریم بینزیما کو ان کی شہریت سے محروم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
امریکہ اور یورپ میں صیہونی لابیوں کا اثر و رسوخ
ان مسائل سے پتہ چلتا ہے کہ امریکہ کی طرح یورپ میں بھی صیہونی لابیوں کے اثر و رسوخ کی وجہ سے بعض یورپی ممالک جیسے برطانیہ، جرمنی اور فرانس کے لیڈروں نے صیہونی حکومت کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے ہیں، لیکن اس کے باوجود صیہونی حکومت کے خلاف عوامی اقدامات اور فلسطینی تحریکوں کی حمایت کا سلسلہ جاری ہے۔ مظلوم فلسطینیوں اور غزہ کے عوام کی حمایت کو ناقابل معافی گناہ سمجھا جاتا ہے، تاہم اس دباؤ، پابندیوں اور ہر قسم کی سزاؤں کے نفاذ کے باوجود یورپی ممالک کے عوام نے بڑے پیمانے پر مظاہرے کرکے دکھا دیا ہے کہ وہ مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ یورپ کے مختلف شہروں میں اسرائیل کے حق میں وسیع پروپیگنڈے اور صیہونیوں کی مخالفت پر سزاؤں کے باوجود فلسطین کی حقیقی صورتحال کو سمجھتے ہوئے صیہونی حکومت کے نہ ختم ہونے والے جرائم جیسا کہ ہسپتالوں پر بمباری اور پانی، بجلی اور کھانے پینے کی اشیاء کی بندش کی مذمت کی جا رہی ہے۔ دنیا بھر کے عوام غزہ کے باشندوں اور فلسطینیوں کے قتل عام اور مصائب کا خاتمہ چاہتے ہیں۔


































