
شب جمعہ تھى۔ امام حسن عليہ السلام رات بھرجاگتے رہے اور اپنى والدہ گرامى صديقہ مرضيہ عليہا السلام كو غور سے ديكھتے رہے وہ اس انتظار ميں تھے كہ ديكھيں والدہ گرامى بارگاہ عاليہ ميں اپنے لئے كيا دعا كرتى ہيں اور پروردگار سے اپنے لئے كيا خير و بركت طلب كرتى ہيں ۔ رات گزر گئى اور ان كى ماں سارى رات ديگر مسلمان مردوعورتوں كے بارے ميں دعا كرتى رہيں ۔ مختصر يہ كہ عبادت و دعا ميں صبح ہوگئى مگر امام حسنؑ نے والدہ كو اپنى ذات كے بارے ميں دعا كرتے ہوۓ نہ سنا۔
چنانچہ انہوں نے صبح ہوتے ہى والدہ كى خدمت ميں دست بستہ عرض كيا ’’ والدہ گرامى! ميں رات بھر كان لگاۓ سنتا رہا مگر آپ پروردگار عالم سے صرف دوسروں كے لئے دعا كرتى رہيں ؟
آخر آپ نے اپنے لئے كوئى دعا كيوں نہيں مانگى ؟ ماں نے بچے كو پيار بھرے لہجے ميں مخاطب كرتے ہوۓ نہايت مختصر ساجواب ديا۔
’’ ميرے فرزند عزيز! پہلے پڑوسى اور ہمسايہ اور بعد ميں اپنا گھر۔
*حوالہ* :
سچى كہانياں، شہيد مرتضى مطہرىؒ، ص:۱۰۳


































