
نیویارک : اقوام متحدہ اور امریکا نے افغان خواتین کے خلاف طالبان کے جابرانہ فیصلوں کی مذمت کرتے ہوئے لڑکیوں کے اسکول کھولنے پر زور دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ماہرین نے کہا ہے کہ طالبان حکام کے پاس مذہب یا روایت سمیت کسی بھی بنیاد پر لڑکیوں کے تعلیم کے حق سے انکار کا جواز نہیں ہے۔ لڑکیوں اور نوجوان خواتین کے تعلیم کے حق سے جاری غیرقانونی انکار ایک نادر علامت کی نشاندہی کرتا ہے اس سے پوری صنف۔ نسل اور ملک کے مستقبل پراثرپڑتا ہے۔ بیان میں اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس بات کا کوئی اشارہ نہیں کہ طالبان خواتین کی تعلیم پرسے پابندی ہٹانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ادھر امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلنکن نے انسانی حقوق کی سالانہ رپورٹ میں افغان خواتین کی تعلیم اور کام تک رسائی پر پابندیوں کی مذمت کی ہے۔ انٹونی بلنکن نے کہاکہ طالبان حکام نے اب تک 80 حکم نامے جاری کئے ہیں۔ جو خواتین کی نقل و حرکت کی آزادی اور تعلیم اور کام کے حق کو محدود کرتے ہیں۔


































