
بیروت (نیٹ نیوز) حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصرااللہ نے امریکی حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اپنا وقت برباد نہ کرو، حزب اللہ کسی بھی استمعاری طاقت کے سامنے سرنہیں جھکائے گی، تکفیریت اور دہشت گردی امریکی پیداوار ہیں۔
اسلامی مزاحمتی تحریک کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے کہا کہ حزب اللہ امریکا سمیت کسی بھی استعماری طاقت کے سامنے سرتسلیم خم نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ 2006 کی 33 روزہ جنگ میں اسلامی مزاحمت نے امریکا کو بدترین شکست سے دوچار کیا۔
انہوں نےاسلامی جمہوریہ ایران کی اقتصادی پالیسی کو بے مثال اور نمونہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی پالیسی اس بات کا باعث بنی کہ ایران گزشتہ 40 برسوں سے امریکا اور اس کے اتحادی ممالک کی غیر قانونی پابندیوں کا مقابلہ کررہاہے۔
سید حسن نصر اللہ نے اپنے خطاب میں جنگ تموز اور اس میں اسلامی مزاحمت کی کامیابی اور خطے اور لبنان کے بارے میں امریکا کے ناپاک منصوبوں کی شکست اور ناکامی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لبنان کے اقتصادی مسائل و مشکلات اور بحران کو حل کرنے کی راہ میں امریکا کو سب سے بڑی رکاوٹ قراردیتے ہوئے کہا کہ ہم خطرات کو فرصت میں تبدیل کرنے کی طاقت و توانائی رکھتے ہیں۔ لبنان میں امریکا اور اسرائیل کی سازشیں کامیاب ہونے نہیں دیں گے۔
سید حسن نصر اللہ نے لبنان کے موجودہ حالات اور اقتصادی صورتحال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اس موقع پر باہمی تعاون کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے مشکلات لبنان کے کسی خاص علاقہ کو درپیش نہیں بلکہ پورے ملک کو مشکلات کا سامنا ہے اور ایسی صورتحال میں باہمی اخلاص و تعاون، محبت، ہمدردی اور ہمدلی کی ضرورت ہے۔
سید حسن نصر اللہ نے لبنان میں تعینات امریکی سفیر کی لبنان کے امور میں مداخلت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امریکی سفیر کو لبنان کے امور میں مداخلت کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔
سید حسن نصر اللہ نے فلسطین کی بھر پور حمایت کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ہمیں اقتصادی مسائل میں الجھا کر مسئلہ فلسطین سے غافل نہیں کرسکتا ہم فلسطینیوں کی فتح اور کامیابی تک ان کے ساتھ ہیں۔


































