
گلگت : مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے صوبائی صدر سید علی رضوی نے کہا ہے کہ اسکردو کے حالات کو دیکھ کر دل خون کے آنسو رو رہا ہے، یہاں معصوم بچے سکیورٹی فورسز کی فائرنگ کے نتیجے میں جام شہادت نوش کر چکے ہیں مگر تاحال ذمہ دار سکیورٹی اہلکاروں کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ معصوم بچوں کو گولیوں سے چھلنی کرنے کے بعد حالات خراب ہو گئے اور مشتعل ہجوم نے املاک کو نقصان پہنچایا۔ میڈیا کو جاری ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ معصوم بچوں کی میتیں دیکھنے کے بعد سے میری تکلیف مزید بڑھ گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ واقعے کے بعد سکیورٹی ادارے کے ذمہ داران شہداء کے ورثا کے پاس آتے اور ذمہ داروں اہلکاروں کو سزا دینے کی یقین دہانی کرا کر ان کے آنسو پونچھ لیتے، مگر انہوں نے ایسا کرنے کے بجائے شہداء کے ورثا کو ڈرانا دھمکانا شروع کیا ہے جو سمجھ سے باہر ہے۔ ہم اس وقت انجمن امامیہ بلتستان کے صدر آغا سید باقر الحسینی کے حکم کے منتظر ہیں، یہاں ورثاء کو ڈرانے دھمکانے کا سلسلہ بند ہونا چاہیئے اور پھول جیسے بچوں کو گولیوں سے چھلنی کرنے والے اہلکاروں کو نہ صرف گرفتار کیا جانا چاہیئے بلکہ ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جانی چاہیئے، بچوں پر گولیاں برسانا کوئی بہادری نہیں ہے، پھر آئندہ ہم سکیورٹی اداروں کے اوپر کیسے بھروسہ کریں کہ یہ لوگ ہماری حفاظت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اسکردو کے مخدوش حالات کی اعلی پیمانے پر عدالتی تحقیقات ہونی چاہیئے اور اعلی کمیشن بننا چاہیئے اور اس بات کی تحقیقات کی جانی چاہیئے کہ نو عمر بچوں پر فائرنگ کیسے اور کس کے حکم پر کی گئی؟ انہوں نے کہا کہ اسکردو حساس علاقہ ہے، اس کے اوپر دشمن کی نظریں ہیں، ہم نہیں چاہتے ہیں کہ یہاں مذید حالات خراب ہوں
۔


































