
Oplus_16908288
تحریر: سید انجم رضا
سوڈان آج ایک ایسی خانہ جنگی کا شکار ہے، جس کے خونی پن کے پیچھے صرف مقامی طاقتیں نہیں بلکہ بین الاقوامی مفادات، روشن خیالی کے نقاب میں چھپی نوآبادیاتی ہوس اور خاموش بین الاقوامی شراکت داری بھی کارفرما ہیں۔ یہ محض ایک داخلی تصادم نہیں؛ یہ وسائل۔۔۔۔ خاص طور پر سونے، تیل اور بندرگاہی رسائی۔۔۔ پر قبضے کی ایک سنگین جنگ ہے، جس کے متاثرین سوڈانی عوام ہیں۔
کشمکش کا اصل محرک، وسائل پر کنٹرول
ریپڈ سپورٹس فورسز (RSF) اور سوڈانی فوج (SAF) کے درمیان جاری لڑائی محض سیاسی اقتدار کی جھگڑا نہیں بلکہ ملک کے قدرتی خزانے پر قبضے کی کوشش بھی ہے۔ سوڈان کے سونے، تیل، زرعی زمینیں اور سمندری بندرگاہیں عالمی سرمایہ دارانہ طاقتوں کے لئے انتہائی اہم ہیں اور یہی دولت اس قومی جہنم کا ایندھن بن رہی ہے۔ افریقہ میں سوڈان جیسے ملکوں کے وسائل نئی نوآبادیاتی رسومات کے لیے ہدف بنتے ہیں۔ بیرونی قوتیں مقامی ایجنٹوں کو استعمال کرکے کنٹرول حاصل کرتی ہیں اور منافع اپنے حصے میں لیتی ہیں، جبکہ نقصان عام عوام کو اٹھانا پڑتا ہے۔
بیرونی مداخلتیں، مفادات، راز اور اتحادیوں کی جنگ
اطلاعات و مشاہدات یہ بتاتے ہیں کہ متحدہ عرب امارات، امریکہ اور دیگر علاقائی و عالمی طاقتیں اس تنازعے میں براہِ راست یا بالواسطہ طور پر شامل ہیں۔ بعض اوقات کھلے طور پر، بعض اوقات خفیہ رابطوں اور مالی یا عسکری مدد کے ذریعے۔ ان طاقتوں کے مقاصد اقتصادی اور جغرافیائی ہیں۔ کان کنی کے منافع، بندرگاہوں کی رسائی اور خطے میں سیاسی اثر و رسوخ۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ بیرونی طاقتیں اکثر اپنے مقاصد کو "استحکام” یا "حفاظت” کے نام سے رنگ دیتی ہیں، جبکہ حقیقت میں یہ نوآبادیاتی مفادات کی تکمیل ہوتی ہے۔
تاریخِ اندیشہ، سابقہ نمونه اور ڈبل معیار
گذشتہ دہائیوں میں کئی مسلم اور غیر مسلم ممالک میں جو انتشار پیدا ہوا، اس کے پیچھے بیرونی مداخلتیں، مقامی گروہوں کی پشت پناہی اور معاندانہ پالیسیاں واضح ہیں۔ افغانستان، شام، عراق، لیبیا، ایسے کئی میدان جہاں "دہشت گردی کے خلاف” نعروں کے پیچھے زمینی مفادات کا کھیل کھیلا گیا۔ اس پس منظر میں سوڈان کی صورتِ حال کو الگ تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔ اس جنگ کا ایندھن جمہوری اصولوں کی پامالی یا مذہبی فرق نہیں بلکہ اقتصادی و جیوپولیٹیکل مفادات ہیں۔
انسانی المیہ، قیمت عام لوگوں نے ادا کی
یہ سب کچھ ایک حقیقت سے ہرگز پیچھے نہیں ہٹتا۔ سوڈانی عوام کا خون بہہ رہا ہے۔ چند دنوں میں ہزاروں افراد ہلاک، لاکھوں بےگھر اور کئی علاقوں میں قحط کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ سب سے زیادہ متاثر وہی طبقات ہو رہے ہیں، جن کے پاس وسائل نہیں۔ مزدور، کسان اور کمزور طبقے۔ وسائل پر قبضے کی جنگ کا اصل خمیازہ غریب عوام اٹھا رہے ہیں۔
بیانیہ اور فکری جنگ: لبرل ازم، نوآبادیات اور مذہبی لیبل
مغربی پالیسیوں اور میڈیا کے کچھ بیانیے اکثر "انسانی حقوق” یا "دہشت گردی کے خلاف کارروائی” کے نام پر نئی نوآبادیاتی مہمات کو جائز قرار دیتے ہیں۔ یہ ماضی کے صلیبیانہ رویوں کا جدید روپ ہے۔ لبرل ازم کے نقاب تلے مسلط کی جانے والی پالیسیاں بعض اوقات غاصبانہ قبضوں کی حمایت کرتی دکھائی دیتی ہیں، جیسا کہ فلسطین کے مسئلے میں ہم نے دیکھا ہے۔ اسی طرح کے ڈبل معیار کا اثر سوڈان میں بھی نمایاں ہے۔ جب مفاد ہو تو "امن” کے نعروں کی دہائی اور جب مفاد ختم ہو تو خاموشی یا مفاد کے تحت مداخلت۔
ذمہ داریاں اور مطالبات
سوڈان کے اس المناک منظر نامے کے سامنے بین الاقوامی برادری، علاقائی قوتیں اور مسلم دنیا کی بااثر ریاستیں اپنی ذمہ داریاں ادا کریں۔ چند ضروری مطالبات واضح ہیں: فوری انسانی راہداریوں کا قیام اور متاثرین تک فوری امداد کی فراہمی، بیرونی مداخلتوں کی شفاف تحقیقات اور جو بھی فریق کسی بھی شکل میں جنگی جرائم میں ملوث ہو، اس کے خلاف بین الاقوامی قانون کے تحت کارروائی۔ سوڈان کے وسائل کے حوالے سے مقامی خود ارادیت اور شفاف، عوامی کنٹرول کو فروغ دینا، تاکہ وسائل سے فائدہ براہِ راست عوام کو پہنچے نہ کہ بیرونی کمپنیاں یا کرائے کے ایجنٹ، علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر نوآبادیاتی مداخلت کے خلاف مضبوط سیاسی، اخلاقی اور اقتصادی موقف۔
اہم بات۔۔۔۔ آواز اٹھانے کی ضرورت
سوڈان میں جو کچھ چل رہا ہے، وہ نہ صرف ایک داخلی تنازعہ ہے بلکہ ایک وسیع تر نظامی مسائل کا مظہر ہے، جس میں وسائل، نوآبادیاتی مفادات اور طاقت کے کھیل نے معمولی شہریوں کی زندگی کو جابجا تاراج کر دیا ہے۔ اس ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا اب وقت کی اشد ضرورت ہے۔ نہ صرف الفاظ میں بلکہ عملی دباؤ، انسانی امداد اور قانونی تقاضوں کی تکمیل کے ذریعے۔ سوڈانی عوام کو اس خانہ جنگی کے حقیقی محرکات سمجھ کر ان کے حق میں متحد ہونا ہوگا، ورنہ ان کے خون پر نشوونما پانے والے مفادات ہمیشہ پھر سے اُن کی قربانی لیتے رہیں گے۔


































