Sun Oct 11, 2026

آئی سی سی نے امریکی پابندیاں مسترد کر دیں امریکا نے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کردیں امریکی حکام تہذیبی جنگ کا بیانیہ بنانے سے قبل ماضی کے واقعات کا مطالعہ کریں، محسن رضائی ٹرمپ نے ایران سے جنگ چھیڑ کر امریکا کو رسوا کیا، امریکی سینیٹر گلگت بلتستان کے وسائل پر کسی بیرونی طاقت کو اثر انداز نہیں ہونے دیں گے، مرکزی انجمن امامیہ ٹرمپ کی پھر رسوائی، امن کا نوبل انعام انسانی حقوق کی وکیل ناوی پلے کے نام آبنائے ہرمز میں ایل پی جی گیس بردار جہاز پر حملہ، آگ لگ گئی پاکستان ہر خطرے کے مقابلے میں سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا رہے گا، وزیراعظم سعودی عرب انصار اللہ کے خلاف جنگ میں ایک بار پھر ماضی کے دلدل میں داخل ہو چکا ہے، نیویارک ٹائمز طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع مکہ معاہدہ ، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج آبنائے ہرمز میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کا حق نہیں، جنرل احمد وحیدی حالیہ جنگوں میں فورسز کا امن و امان قائم رکھنے میں کردار بے مثال رہا، ولی امر مسلمین ترکیہ کا فوجی دستے سعودیہ بھیجنے سے انکار، مکہ معاہدہ پارلیمنٹ میں لایا جائیگا، وزیرخارجہ انصار اللہ کے حملے میں سعودی طیارہ تباہ

روزانہ کی خبریں

ضدی، ہر چیز پر مالکیت جتانے اور ہر کام میں ٹانگ اڑانے والا بچہ

ضدی، ہر چیز پر مالکیت جتانے اور ہر کام میں ٹانگ اڑانے والا بچہ

س: میرا ایک چھوٹا اور ایک بڑا بیٹا ہے۔ چھوٹا بیٹا بہت بہانے باز اور ضدی ہے۔  یہاں تک کہ ہر چیز پر اپنی ملکیت جتاتا اور ہمیشہ یہ چاہتا ہے کہ اس کی بات مانی جائے۔ ہر کام میں ٹانگ اڑاتا ہے اور صرف اپنی رائے ٹھونسنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس بچے کے ساتھ کیا کروں؟

  • چار سالہ بچے کا طرزِ زندگی اور ہمارا برتاؤ*
    چار سال کی عمر میں بچوں کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت خودمختاری اور خود پسندی ہے جو کہ گھریلو ماحول میں مستقل مزاجی کا باعث بنتا ہے۔
    وہ دوسروں کے مشوروں کو پوری طرح نہیں سنتا ہے۔
    لہذا ہمیں اپنے انداز کو بدلنا ہوگا کہ بچے کے ساتھ کیسا برتاؤ کرنا ہے جس سے وہ ضدی نہ ہو ۔ مثلا ایک مخصوص مدت تک ہم باقاعدہ کہیں کہ "آج سے ہمارے ٹی وی چینلز کو تبدیل کرنا تمہارے اختیار میں ہوگا اور اسے تم سنبھالو۔”

اس طرح اس کے اندر بات ماننے والی حس جاگے گی۔ نہ یہ کہ جب بچے کے ہاتھ میں ٹی وی کا ریموٹ دیکھیں تو اس سے چھینیں اور کہیں ریموٹ ہرگز بچہ کے ہاتھ میں نہیں ہونا چاہیے۔

  • ہر وقت حکم دینے سے کام نہ چلائیں!*
    بعض اوقات ہم حکم دینے کی بجائے خبری جملوں کا استعمال کریں۔مثلا جب سونے کا وقت ہو تو بچوں سے کہیں! میں اور آپ کی ماماں تھکے ہوئے ہیں لہذا سوتے ہیں۔ اس طرح کا اظہار بچوں کی طرف سے نرمی کا باعث بنے گا۔
  • کھیل کھیل اور بس کھیل*
    ضد اور ہٹ دھرمی کا ایک اور عنصر (خاص طور پر تین سے سات سال کی عمر کے دوران) یہ ہے کہ ہمارے پاس بچوں کے لیے کوئی شیڈول نہیں ہوتا۔ اس عمر میں ، بچوں کی دنیا صرف اور صرف کھیل ہونا چاہیے۔ کھیل کے لیے بھی اس کے ساتھ کھیلنے والوں، مناسب ماحول، کھلونوں وغیرہ کی ضرورت ہوتی ہے۔

منصوبہ بندی کی ایک جہت یہ ہے کہ ہم بچےکو اس کے ساتھیوں کےساتھ کھیلنےکا ماحول فراہم کریں۔ اگر سب کچھ فراہم ہو اور بچہ کھیلنےمیں محو ہوجائے تو یہ ہمارے اور بچے کے لیےسب سے بہترین لمحات ہیں۔ چونکہ یہ ایسا ماحول ہے جو بچے کی ضروریات کو پورا کرتا ہے، لہذا یہ بچے کو زیادہ فرمانبردار اور آرام دہ بناتا ہے۔

البتہ یہ ضروری نہیں کہ جو بھی ہم نے برنامہ بنایا اس کا اعلان کریں بلکہ بچے کو اس کے تحت تاثیر قرار دیں اور ماحول فراہم کریں۔ اگر برنامے کا اعلان کریں تو ممکن ہے بچے کی طرف سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular