
دوحہ : حماس کے سینئر رہنما اسامہ حمدان نے کہاہےکہ اسرائیل کا غزہ میں امداد کی ترسیل روکنا جنگ بندی معاہدے کی شقوں سے صریح انحراف اور بدنیتی پر مبنی رویے کا عکاس ہے۔ اسامہ حمدان نے اس بات پر زور دیا کہ فوری ترجیح غزہ میں انسانی امداد اور ایندھن کی فراہمی کو یقینی بنانا اور رفح کراسنگ کو دونوں سمتوں میں کھولنا ہے تاکہ محصور آبادی پر مسلط سنگین انسانی المیے کی شدت میں کمی لائی جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ قطر ، مصر اور ترکیہ سمیت ثالث ممالک واشنگٹن کے ساتھ رابطوں کے ذریعے مسلسل اور سنجیدہ کوششیں کر رہے ہیں تاکہ قابض اسرائیل کو اس کے وعدوں کا پابند بنایا جا سکے اور ٹال مٹول کی پالیسی کا خاتمہ ہو۔ اسامہ حمدان نے واضح کیا کہ حماس کے ہتھیار حوالے کرنے کا شوشہ کسی بھی زمینی حقیقت پر مبنی نہیں اور اسے محض ہوا میں چھلانگ قرار دیا جا سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب قابض اسرائیل خود معاہدے کی کسی شق پر عمل درآمد نہیں کر رہا۔


































