Sun Oct 11, 2026

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ، صدر مملکت نے سمری پر دستخط کردیے ریاض ایئرپورٹ پر انصار اللہ کا حملہ، 12 افراد ہلاک، 306 زخمی، پروازیں منسوخ ٹرمپ نوبیل انعام نہ ملنے کی رسوائی پر شدید برہم، انعام کمیٹی اور ناروے پر تنقید خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کے خلاف کارروائی آبنائے ہرمز تک محدود نہیں رہے گی، پاسدارانِ انقلاب آئی سی سی نے امریکی پابندیاں مسترد کر دیں امریکا نے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کردیں امریکی حکام تہذیبی جنگ کا بیانیہ بنانے سے قبل ماضی کے واقعات کا مطالعہ کریں، محسن رضائی ٹرمپ نے ایران سے جنگ چھیڑ کر امریکا کو رسوا کیا، امریکی سینیٹر گلگت بلتستان کے وسائل پر کسی بیرونی طاقت کو اثر انداز نہیں ہونے دیں گے، مرکزی انجمن امامیہ ٹرمپ کی پھر رسوائی، امن کا نوبل انعام انسانی حقوق کی وکیل ناوی پلے کے نام آبنائے ہرمز میں ایل پی جی گیس بردار جہاز پر حملہ، آگ لگ گئی پاکستان ہر خطرے کے مقابلے میں سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا رہے گا، وزیراعظم سعودی عرب انصار اللہ کے خلاف جنگ میں ایک بار پھر ماضی کے دلدل میں داخل ہو چکا ہے، نیویارک ٹائمز طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع مکہ معاہدہ ، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج

روزانہ کی خبریں

نوجوان سے ہی ان کی مشکل کا حل نکلوائیں۔

اب تک یہ بات ہوئی کہ نوجوان کیونکہ stable ہونا چاہتا ہے تو زور زبردستی کے بجائے، اس کی سوچنے کی صلاحیت کو پروان چڑھائیں۔ اگر ہمیں اپنے نوجوان سے کوئی مشکل درپیش ہے یا ہم اس میں کچھ اصلاح کروانا چاہتے ہیں تو بہترین راستہ یہ ہے کہ اسی سے مشکل کا حل نکلوائیں۔

اس خاکے پر توجہ دیں

12 سالہ علی شام کو پانچ بجے کھیلنے جاتا ہے اور آنے کا پتہ نہیں۔ جبکہ ماں نے کہا ہے کہ 6:30 تک گھر آجایا کرے۔ گھر آکے ہمیشہ بھوک کا نعرہ لگاتا ہے۔ ماں کو شکایت ہے کہ وہ دیر سے آتا ہے، تب تک شام کی چائے اور اس کے لوازمات کھاکے ختم ہوچکے ہوتے ہیں اور ماں بھی اس کے دیر سے آنے سے پریشان ہوجاتی ہے۔

ماں: علی مجھے آپ سے ایک موضوع پہ بات کرنی ہے۔ آپ کے پاس وقت ہے ابھی؟

علی: کس حوالے سے؟

ماں: اس حوالے سے کہ آپ شام کو وقت پر گھر نہیں آتے۔
علی: میں نے تو آپ کو بتایا ہے کہ میں کوشش کرتا ہوں لیکن ہمیشہ مجبور ہوتا ہوں کہ کھیل کے بیچ میں چھوڑ کر آجایا کروں۔

ماں: اوہ۔۔!

علی: کوئی بھی مجھ سے پہلے گھر نہیں جاتا.

ماں: ہوممم…
علی: اور میں مجبور ہوتا ہوں کہ کھیل کے بیچ میں بار بار دوستوں سے ٹائم پوچھوں اور وہ لوگ کہتے ہیں کہ ہمارے کھیل کو خراب نہیں کرو۔
ماں: اوہ میں بھی تمہاری جگہ ہوتی تو مجھے اچھا نہیں لگتا.

علی: اور وہ سب میرا مذاق اڑاتے ہیں اور کہتے ہیں ممی پاپا والا بچہ ہے.

ماں: یعنی تم دوسروں کی طرف سے پریشر میں ہو؟
علی: ہاں!
ماں: پتہ ہے میں آپ سے کیا چاہتی ہوں؟
علی: ہاں جانتا ہوں آپ چاہتی ہیں کہ میں ہمیشہ بالکل ٹائم پر گھر پہ ہوں.

ماں: یہ ایک حصہ ہے اس موضوع کا، لیکن اصل میں جب آپ دیر سے آتے ہو تو میں پریشان ہو جاتی ہوں۔

علی: تو آپ پریشان مت ہوا کریں نا۔

ماں: مجھے دل چاہتا ہے کہ میں پریشان نہیں ہوں لیکن۔۔۔ دیکھو۔۔۔ ہم کچھ سوچتے ہیں۔ کوئی راستہ نکالتے ہیں کہ جو ہم دونوں کے لیے اچھا ہو۔
(ماں ایک کاغذ قلم اٹھاتی ہے)

کہتی ہیں آپ شروع کرو۔

علی: میں دیر سے گھر آتا ہوں اور آپ پریشان ہو جاتی ہیں۔

ماں: (لکھتی ہے) اب آئیڈیا دو.
علی: پتہ نہیں

ماں: میرے ذہن میں ایک آئیڈیا ہے کہ میں ٹائم پر آپ کو لینے آجایا کروں۔

علی: نہیں! بالکل نہیں!

ماں: ابھی جو بھی ذہن میں آرہا ہے لکھتے ہیں بعد میں سوچیں گے کہ کس پہ کراس لگائیں۔
علی: کیسا ہے کہ میں گھڑی پہن لیا کروں؟
(ماں لکھتی ہے گھڑی پہننا)

علی: کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ آپ شام کی چائے اور اس کے لوازمات میرے لیے بھی الگ کر کے رکھ دیا کریں؟
(ماں لکھتی ہے) پھر تھوڑا سوچ کے کہتی ہے یا یہ ہو سکتا ہے کہ ہم 15 منٹ دیر سے چائے پییں۔

علی: صرف 15 منٹ؟
ماں: آپ چاہتے ہو یہ وقت زیادہ ہو جائے؟
(ماں لکھتی ہے ہم شام کی چائے 15 منٹ لیٹ پییں گے تاکہ علی گھر آچکا ہو۔)
آؤ چلیں اپنی لسٹ پہ ایک نظر ڈالتے ہیں کہ کس کو کراس لگائیں اور کس کو رہنے دیں۔
دیکھتے ہیں۔
ماں پڑھتی ہے۔۔۔
علی دیر سے گھر آتا ہے اور ماں پریشان ہوتی ہے۔
راہِ حل:
1-گھڑی پہننا
2-شام کی چائے اور لوازمات علی کے لیے الگ رکھ دینا
3- 15 منٹ دیر سے چائے پینا تاکہ علی آچکا ہو۔

علی: اس جگہ جہاں لکھا ہے کہ آپ مجھے لینے آئیں گی اس کو کاٹ دیں مجھے بالکل اچھا نہیں لگے گا دوستوں کے سامنے.

ماں: ٹھیک ہے اس کو کاٹ دیتی ہوں اب باقی راہ حل کو دیکھتے ہیں۔ آپ کے خیال میں کیا 15 منٹ دیر سے چائے پینا مشکل کو حل کرسکتا ہے؟

علی: نہیں لیکن شاید تھوڑا فرق پڑے۔

ماں: شاید بعض دفعہ آپ کے لیے میں الگ کر کے رکھ سکوں۔

علی: چلتے ہیں گھڑی پہننے کی طرف.

ماں: یہ دوسری بار ہے کہ آپ اپنی گھڑی خراب کر رہے ہو اتنی دفعہ ٹھیک کروا کر میں تھک چکی ہوں. علی: میرے پاس اتنی۔۔۔ پاکٹ منی ہے لیکن کم ہے۔ کیا گھڑی ٹھیک کرانے کے لیے کافی ہے؟

ماں:کہہ سکتے ہیں کہ اتنے نہیں لیکن میں اور بابا بھی اس میں تھوڑا شامل کریں تو ٹھیک ہو سکتی ہے۔
علی: ہاں اب آئندہ سے خیال رکھوں گا کہ گھڑی نہ توڑوں۔ جب اپنے دوست کے ساتھ زور آزمائی کر رہا ہوں تو گھڑے اتار کے سائیڈ میں رکھوں گا اور کھیل کے دوران ٹائم دیکھتا رہوں گا کہ وقت پر گھر آسکوں۔

ماں: یہ کام کرو گے؟
چلو پھر لسٹ کی طرف دیکھتے ہیں کہ ہمارا آخری نتیجہ کیا نکلا۔ میں نے شام کی چائے سوا چھے کے بجائے، ساڑھے چھے پہ رکھ دی۔
ہم اپنے پیسے ملائیں گے تاکہ آپ کی گھڑی ٹھیک کروائیں
اور بعض دفعہ میں آپ کے لیے چائے اور اس کی لوازمات الگ کر کے رکھ دیا کروں گی۔

علی: بہت عمدہ۔۔!

اس ماں سے اگلی دفعہ جب پوچھا گیا کہ کیا یہ چیزیں کارآمد تھیں یا نہیں تو انہوں نے بتایا کہ اب وہ بروقت گھر پر آجاتا ہے۔

اس طرح نوجوان کے ساتھ مل بیٹھ کر حل نکلوائیں

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular