
لاہور: مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے جامعہ عروۃ الوثقیٰ میں یکجہتی ایران کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آزادی کا دروازہ ہر کسی پر نہیں کھلتا، اس پر وہی دستک دیتا ہے جس کے ہاتھ لہو سے رنگین ہوں، یہ راستہ آسان نہیں، اس میں ظلم اور آزمائشیں ہیں، مگر حق کبھی خوف سے نہیں رکتا۔ کانفرنس کی صدارت علامہ سید جواد نقوی نے کی جبکہ علامہ سید ریاض حسین نجفی، سراج الحق، علامہ امین شہیدی، علامہ محمد افضل حیدری سمیت مختلف مکاتب فکر کے جید علمائے کرام نے شرکت کی۔
علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ یہی کربلا ہے، یہی عاشورہ ہے، جہاں سے یزیدیت کے خلاف جدوجہد ہمیشہ جاری رہتی ہے، شیطان ان جذبوں، ایمان، ایثار اور شجاعت کو کبھی شکست نہیں دے سکا، کربلا میں وہ سب کچھ تھا جس کی ایک خوفزدہ معاشرے کو ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کا خون اثر رکھتا ہے، شرط صرف یہ ہے کہ اس کے وارث کون بنتے ہیں، یہی جنگ حضرت آدمؑ سے کربلا تک حق اور باطل کے درمیان جاری رہی ہے، معاشرہ ہمیشہ دو حصوں میں بٹا رہا ہے، یا حسینیت یا یزیدیت، اور آج بھی یہی معرکہ جاری ہے۔ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ انقلابِ اسلامی دراصل کربلا اور عاشورہ کے تسلسل کا عملی اظہار ہے، شیعہ سنی وحدت ہی اصل طاقت ہے، یہی ظہورِ امام مہدی کی بنیاد ہے، تفرقہ ڈالنے والا دراصل امت کا دشمن ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ جنگ صرف سرحدوں کی نہیں، یہ حق و باطل کی جنگ ہے جو واقعہ کربلا سے آج تک جاری ہے، یہ مقابلہ چند افراد کا نہیں، ایک مکمل اسلامی تہذیب کا ہے، جو باطل نظام کو چیلنج کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام ایک درد، ایک احساس اور ایک منزل پر متحد ہیں، راستہ بھی ان شاءاللہ ایک ہوگا، پاکستان کی سرزمین عدل و انصاف کا مرکز بنے گی اور ظلم کے خلاف ایک مضبوط آواز کے طور پر اُبھرے گی۔


































