Sat Oct 10, 2026

گلگت بلتستان کے وسائل پر کسی بیرونی طاقت کو اثر انداز نہیں ہونے دیں گے، مرکزی انجمن امامیہ ٹرمپ کی پھر رسوائی، امن کا نوبل انعام انسانی حقوق کی وکیل ناوی پلے کے نام آبنائے ہرمز میں ایل پی جی گیس بردار جہاز پر حملہ، آگ لگ گئی پاکستان ہر خطرے کے مقابلے میں سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا رہے گا، وزیراعظم سعودی عرب انصار اللہ کے خلاف جنگ میں ایک بار پھر ماضی کے دلدل میں داخل ہو چکا ہے، نیویارک ٹائمز طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع مکہ معاہدہ ، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج آبنائے ہرمز میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کا حق نہیں، جنرل احمد وحیدی حالیہ جنگوں میں فورسز کا امن و امان قائم رکھنے میں کردار بے مثال رہا، ولی امر مسلمین ترکیہ کا فوجی دستے سعودیہ بھیجنے سے انکار، مکہ معاہدہ پارلیمنٹ میں لایا جائیگا، وزیرخارجہ انصار اللہ کے حملے میں سعودی طیارہ تباہ اسرائیل کو ایران پر ممکنہ حملے کیلئے تیار رہنے کی ہدایت ایران کے حملوں کے بعد امریکی فوج نے کویت کا اہم اڈہ خالی کر دیا بھارت پاکستان میں دہشت گردی کیلئے طالبان کی مدد کر رہا ہے: جواد اجمل شام کا سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں فوج بھیجنے پر غور

روزانہ کی خبریں

شرمِ الشیخ، خاموش فریق اور انسانیت کی قیمت

ترتیب و تنظیم: سیدہ زہراء عباس

(غزہ، فلسطین) عالمی طاقتوں کی ساز باز پر ایک غمناک جائزہ
غزّہ کا نام سنتے ہی ذہن میں شہید، ملبہ، لاوارث بچے اور ٹوٹتے ہوئے ہسپتال آجاتے ہیں اور اس کے پیچھے ایک ایسی طوالتِ الم ہے، جو دہائیوں پر محیط سیاسی فیصلوں، عسکری حکمتِ عملی اور بین الاقوامی بے عملی کا نتیجہ ہے۔ حالیہ شرمِ الشیخ اجلاس نے ایک بار پھر خطے میں امن کی بات کی، مگر سوال وہی ہے: جب اصل فریق۔۔۔۔ وہ جس کے ہاتھ سب سے زیادہ تباہی میں رنگے ہیں، اس سازش میں شامل نہ ہوں تو کیا یہ اعلامیہ انصاف کا نام لے سکتا ہے۔؟

تاریخی پس منظر: فلسطین، غزہ اور مظالم کا تسلسل
فلسطینی-اسرائیلی تنازعہ سے وابستہ تاریخی حقائق مختصراً یہ ہیں: 1948ء کے بعد فلسطینی زمین پر مشتمل سیاسی و سماجی زخم بن گئے؛ 1967ء کی جنگ کے بعد مقبوضہ علاقوں کی فوجی اور آبادکاری پالیسیوں نے استحکام کے دروازے بند کر دیئے؛ غزہ، جو لاکھوں فلسطینیوں کا گھر ہے، عرصہ دراز سے ناکہ بندی، معاشی گراوٹ اور فوجی کارروائیوں کا شکار رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ، ایمنیسٹی انٹرنیشنل اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے متعدد بار غزہ میں شہری آبادی پر غیر متناسب طاقت کے استعمال، بنیادی سہولیات کی تباہی اور شہری ہدف بنانے کے سلسلے میں تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یہ رپورٹس، جن میں طبی خدمات، خوراک، پانی اور رہائش کی تباہی کے واضح شواہد شامل ہیں، واضح کرتی ہیں کہ غزہ کے لوگ انسانی ہنگامی کیفیت کا شکار ہیں۔

اسرائیل کی عسکری کارروائیاں، الزامات اور حقائق
گذشتہ برسوں اور حالیہ تناؤ میں متعدد بار یہ دیکھا گیا کہ اسرائیلی فوجی کارروائیاں شہری علاقوں، ہسپتالوں، اسکولوں اور امدادی مراکز کو نشانہ بناتی ہیں۔ نتیجتاً بچوں اور عام شہریوں کی بڑی تعداد شہید یا بے گھر ہوئی۔ بین الاقوامی رپورٹس (اقوامِ متحدہ کے ایجنسی رپورٹس، ہیومن رائٹس واچ، ایمنیسٹی) نے بارہا یہ کہا کہ تناسب کا فقدان، قابلِ تفتیش جنگی جرائم کے امکانات اور شہری آبادی کو محفوظ رکھنے میں ناکامی قابلِ تشویش ہے، لیکن اسرائیل نے ظلم و بربریت کی وہ تاریخ رقم کی، جس پر رہتی دنیا تک انسانیت شرمائے گی اور حیرت اس بات پر کہ اسرائیل کی طرف سے اکثر یہ دعویٰ آتا ہے کہ وہ اپنی سکیورٹی کے لیے کارروائیاں کر رہا ہے اور حماس یا عسکری گروپوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔۔۔ مگر شہری جانی اور معاشی نقصان کا حجم ان دعوؤں پر سوال اٹھاتا ہے۔

تازہ ترین واقعات اور رپورٹس: شواہد کی روشنی میں، انسانی ہلاکتیں اور امداد کی حدود۔
جسمانی واپسی کا مرحلہ: 14 اکتوبر 2025ء کو اسرائیل نے پہلی بار فلسطینی ہلاک شدگان کی لاشیں غزہ واپس کیں۔
معاونت کی کٹوتی: معاہدے کے باوجود اسرائیل نے امدادی ٹرکوں کی تعداد آدھی کر دی ہے، دعویٰ کرتے ہوئے کہ حماس نے کبھی بعض لاشیں واپس نہیں کیں۔
مذاکرات کی کشمکش: معاہدے کے تحت حماس سے توقع تھی کہ وہ تمام زندہ اور مردہ مغوی واپسی کرے، مگر صرف چند لاشیں ملیں، جس پر اسرائیل نے امداد محدود کرنے کی دھمکی دی۔
ہنگامی انسانی صورتحال: انقرہ، مصر اور قطر کی ثالثی کے باوجود، امداد کی تقسیم اور سرحدی گزرگاہیں جزوی کھلی ہیں یا تاخیر کا شکار ہیں۔

بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور عمارات کا نقصان
تعمیراتی نقصان کا نقشہ: تحقیقی رپورٹ نے ان SAR ٹیکنالوجی کی مدد سے یہ پتا لگایا کہ جنگ کے پہلے سال میں تقریباً 191,263 عمارات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہوچکی ہیں، جس سے متاثرہ علاقے کی 92.5٪ کا درست عکس مکمل ہوا۔

ہسپتالوں پر حملے:
یورپی ہسپتال بمباری: 13 مئی 2025ء کو خانیونس کے علاقے میں یورپی اسپتال پر حملہ ہوا، جس میں کم از کم 28 افراد شہید ہوئے۔
نسّر ہسپتال پر حملہ: 25 اگست 2025ء کو خان یونس کے نسّر ہسپتال پر ڈبل-ٹپ بمباری کی گئی۔۔۔ 22 افراد شہید، جن میں 5 صحافی بھی شامل تھے۔
فہمی الجرجاوی اسکول بمباری: 25 مئی 2025ء کو داراج، غزہ شہر میں واقع اسکول پر حملے میں 36 افراد مارے گئے، جن میں کم عمر بچے بھی شامل تھے۔
تعلیمی نظام کا نقصان: کمیشن نے رپورٹ کیا کہ 7 اکتوبر 2023ء تا فروری 2025ء کے دوران 564 اسکولوں میں سے 403 اسکول تباہ یا شدید نقصان کا شکار ہوئے، جس نے تقریباً 435,290 طلبہ اور 16,275 اساتذہ کو اثر کیا۔

نظمیاتی تشریعات، حراست اور مظالم
قید و بند اور بدسلوکی: OHCHR نے مشترکہ رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ مابعد 7 اکتوبر 2023ء سے اب تک تقریباً 8,910 افراد (بچوں، خواتین سمیت) کو حراست میں لیا گیا۔ ان میں سے کئی کو قانونی بنیاد کے بغیر گرفتار کیا گیا، وکیل تک رسائی نہیں دی گئی اور بعض افراد کو تشدد، یرغمالی اور آزار رسانی کا نشانہ بنایا گیا۔
بین الاقوامی قانونی رپورٹیں: UN Human Rights Office نے نو نومبر 2024ء کو جاری رپورٹ میں کہا کہ متعدد واقعات ایسے ہیں، جنہیں جنگی جرائم، جرائمِ انسانیت یا ممکنہ نسل کشی کا درجہ دیا جانا چاہیئے۔ فروری 2024ء کی رپورٹ نے اسرائیل، فلسطینی علاقوں اور مقبوضہ علاقوں کے تمام فریقین پر زور دیا کہ سنگین قوانین اور فوجی و انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر جوابدہی یقینی بنائی جائے۔
قحط کی تصدیق: روم-based IPC (Integrated Food Security Phase Classification) نے اعلان کیا کہ غزہ شہر میں فوجنا کی حالت تسلیم کی گئی ہے اور اس کا اعتراف کیا گیا کہ یہ انسانی مداخلت سے پیدا شدہ ہے۔

امریکہ، ڈونلڈ ٹرمپ اور پردۂ اثر
امریکہ ہمیشہ اس تنازعے میں ایک بنیادی کھلاڑی رہا ہے، اس کی خارجہ پالیسی، فوجی امداد اور سفارتی سرپرستی سے توازن بدلتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی طرزِ عمل نے کئی بار اسرائیلی وزارتِ دفاعی فیصلوں کو تقویت دی: عسکری امداد، سفارتی محافظت اور متعدد مواقع پر فوجی کارروائیوں کے بعد سیاسی اور سفارتی دفاع۔ یہی سبب ہے کہ بڑے پیمانے پر تاثر پایا جاتا ہے کہ امریکہ خاص طور پر ٹرمپ کے اثر و رسوخ والے حلقے اسرائیلی اقدامات میں براہِ راست یا بالواسطہ معاون رہے ہیں۔ اس پس منظر میں جب ٹرمپ خود کسی امن پلان یا ثالثی کا حصہ بنتا ہے تو یہ سوال اٹھتا ہے کہ اس کا حقیقی مقصد کیا ہے: امن، یا علاقائی سیاست میں اپنی ساکھ کی تجدید۔؟

شرمِ الشیخ اعلامیہ، کیا یہ کافی ہے؟
حال ہی میں شرمِ الشیخ میں ہونے والا اجلاس اور اس پر دستخط کنندگان کا اعلامیہ (جو امریکی، مصری، قطری اور ترکیہ اثرات سے جڑا دکھائی دیتا ہے) بظاہر ایک امدادی اور عبوری امن فریم ورک پیش کرتا ہے: جنگ بندی، قیدیوں کی واپسی، عبوری حکومت اور تعمیرِ نو۔ مگر اس اعلامیے کی سب سے بڑی کمزوری یہی ہے کہ اسرائیل (اور بعض رپورٹس کے مطابق حماس کی براہِ راست شمولیت بھی) رسمی طور پر شامل نہیں۔ نتیجہ؟ ایک طاقتور سیاسی بیان ضرور، مگر وہی پرانی خامی: جب مرکزی فریق معاہدے کا حصہ نہ ہو تو نفاذ مشروط اور غیر یقینی رہتا ہے۔

کیوں یہ اعلامیہ اکثر اوقات "علاجِ جمالیاتی” ثابت ہوتا ہے؟
1۔ رضامندی کا فقدان: جب وہ جن کی پالیسی بدلنی ہو، وہ شامل نہ ہوں، تو صرف بیانات رہ جاتے ہیں۔
2۔ نفاذی میکانزم کی کمی: اعلامیے میں اگر واضح پینلٹی، نگرانی یا نفاذ کا شفاف طریقہ کار شامل نہ ہو تو اسے گھاس کھا جائے گی۔
3۔ معاشی و سیاسی محرکات: تعمیرِ نو کے فنڈز اور امداد کو شرائط پر مشروط کرنا ضروری ہوتا ہے، بصورتِ دیگر مقامی طاقتیں ان کو ڈیفیکٹو مفادات کے لیے استعمال کرسکتی ہیں۔
4۔ علاقائی صحتِ روابط: جب خطے کی طاقتیں اپنی خود کی ترجیحات کے مطابق معاہدہ استعمال کریں۔۔۔ مثال کے طور پر داخلی سیاسی فوائد یا عالمی پوزیشننگ تو مقامی عوام کے طویل المدتی مفاد پیچھے رہ جاتا۔

انصاف، قانونی راستے اور ذمہ داریاں
اگر کسی معاہدے یا اعلامیے کو حقیقی انصاف میں بدلنا چاہتے ہیں تو چند ضروری شرائط ہیں: شواہد کی بنیاد پر قانونی پیشرفت (بین الاقوامی عدالتِ انصاف یا فوجداری عدالتوں میں شواہد)، امدادی فنڈز اور بحالی کو شفاف شقوں کے ساتھ جوڑا جانا، فریقین کی براہِ راست شمولیت اور عوامی نمائندوں کا اعتماد، بین الاقوامی نگرانی اور شفاف میکانزم جن میں مقامی سول سوسائٹی کی شمولیت لازمی ہو۔

ضروری ہے
1۔ بین الاقوامی دباؤ مضبوط کریں: امدادی پیکجز کو انسانی حقوق کے معیار سے مشروط بنایا جائے۔
2۔ سکیورٹی اور سیاسی راستے علیحدہ کریں: عارضی جنگ بندی کے بعد سیاسی مذاکرات کے لیے حقیقی نمائندہ فریقوں کو بٹھایا جائے۔
3۔ علاقائی شراکت داروں سے تقویت: مصر، قطر اور دیگر ممالک جو کردار ادا کر رہے ہیں، انہیں سخت گارنٹی میکانزم پر رضامند کیا جائے۔
4۔ شہری شواہد کو محفوظ کریں: جنگی جرائم یا انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے شواہد مرتب کرکے بین الاقوامی فورمز میں پیش کریں۔
5۔ میڈیا اور عوامی شعور: دنیا کو غزہ کی حقیقی صورتِ حال دکھانے کے لیے مستقل اور منظم میڈیا اور سوشل مہمات ضروری ہیں۔

شرمِ الشیخ اعلامیہ اگرچہ ایک سفارتی کوشش کے طور پر خوش آئند ہے، مگر جب تک اصل فریقین خاص طور پر وہ قوت جس کے پاس سب سے زیادہ طاقت اور ذمہ داری ہے، باقاعدہ طور پر شامل نہیں ہوتے، یہ محض عارضی ریلیف یا سیاسی بیانیہ بن کر رہ جائے گا۔ اسرائیل کے خلاف جو الزامات اٹھائے جا رہے ہیں، وہ صرف جذباتی بیان نہیں بلکہ بین الاقوامی رپورٹس میں مستند شواہد کے ساتھ سامنے آئے ہیں اور امریکہ، جو عالمی طاقت کے طور پر کشمکش میں شامل ہے، اس کا کردار اس تنازعے کے مستقبل کا تعین کرے گا۔ حقیقی انصاف تبھی ممکن ہے، جب عالمی قوتیں اپنے سیاسی مفادات کو عبور کرکے انسانی اقدار کو مقدم رکھیں۔۔۔ ورنہ یہ اعلامیہ بھی تاریخ کے صفحات میں ایک اور اعلان ہی ثابت ہوگا، عمل میں تبدیلی کے بغیر۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular