
تحریر: منظوم ولایتی
جنوری 2024ء کا مہینہ چل رہا ہے۔ 5 جنوری 2005ء کو دن کے تقریباً 12 بجے کا وقت تھا۔ شہید ضیاء الدین رضویؓ نماز ظہر پڑھانے کیلئے گلگت جامع مسجد کی طرف اپنے گھر سے روانہ ہوئے۔ راستے میں اچانک آپ کی گاڑی پر لشکر جھنگوی کے افراد کا حملہ ہوا۔ آپ کے دو محافظ حسین اکبر اور عباس علی موقع پر ہی شہید ہوگئے جبکہ تیسرا محافظ شدید زخمی ہوا۔ آپ کو وہاں سے زخمی حالت میں راولپنڈی لایا گیا، لیکن آپ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے 13 جنوری کو شہید ہوگئے۔ آپ کو جامع مسجد گلگت کے صحن میں سپرد خاک کیا گیا، جہاں آپ کا روضہ مرجعِ عام و خاص بنا ہوا ہے۔
آپ کی شہادت کی وجہ آپ کی دوراندیشی، بصیرت، قومی غیرت، اجتماعی سوچ اور آپ کی شجاعت بنی۔ آپ کا جُرم یہ تھا کہ آپ نصابِ تعلیم اور نظامِ تعلیم میں موجود خامیوں کو جان گئے تھے۔ شہید ضیاء الدین، ان مسائل کو ملت پاکستان کی زندگی اور موت کا مسئلہ سمجھتے تھے اور ان کے حل کیلئے آخری حد تک جانے کیلیے تیار تھے۔ دشمن جانتا تھا کہ انہوں نے نظامِ تعلیم اور نصابِ تعلیم کی بات کرکے دشمن کی شہ رگ پر ہاتھ رکھا تھا۔ افسوس اس بات کا ہے کہ دشمن تو ان کی دوراندیشی کو سمجھ گیا تھا، لیکن دوست نہ سمجھ سکے۔
اُن کے بعض "دوستوں” کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ محفل میں شہیدؓ سے متعلق ایک بات کرتے اور پیٹھ پیچھے کہنے لگتے "رہنے دیجیئے سید ضیاء ایک جذباتی سا بندہ ہے، بڑا آیا ہے پورے ملک کے نصاب کو تبدیل کرنے والا!” العجب ثم العجب۔ آج نظامِ تعلیم اور نصابِ تعلیم کا جن بوتل سے باہر آچکا ہے، ہمارے اکابرین کاش اُس وقت ملکی سطح پر شہید رضویؓ کے نظریئے کو اپنا قومی بیانیہ بناتے اور اس مسئلے کو سنجیدہ لیتے۔ خیر ہمیں آج کل کی طرح اُس وقت بھی ایسے کاموں کی فرصت نہیں تھی۔
شہید کی برسی کے موقع پر نئی نسل کو یہ بتانا ضروری ہے کہ شہید سید ضاء الدین رضویؓ فقط نصابِ تعلیم کے مسئلے پر میدان میں نہیں آئے تھے بلکہ شہید کی ساری زندگی نظریہ پردازی، اصلاحِ ملت، تبلیغِ دین اور جدوجہد سے عبارت ہے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم کا آغاز اپنے گھر سے کیا اور میٹرک تک تعلیم گلگت میں ہی حاصل کی۔ اس کے بعد لاہور کے جامعۃ المنتظر میں داخلہ لیا۔ پھر قم المقدس ایرن میں بھی تعلیم حاصل کی۔
آپ نے اپنی طالب علمی کے دور سے ہی تدریس کا سلسلہ شروع کر دیا تھا اور مولانا صفدر حسین نجفی مرحوم کی وساطت سے دو سال تک لندن میں بھی تدریس و تبلیغ کے فرائض انجام دیتے رہے۔ پھر اپنے علاقے گلگت شہر میں واپس آکر مدرسہ جعفریہ میں پرنسپل کی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ گلگت کی مرکزی جامع مسجد میں امامت کے فرائض بھی انجام دینے لگے۔ اسی طرح علاقے میں اہل تشیع کی قیادت بھی آپ کے ہاتھ میں تھی۔
آپ نے گلگت، ہنزہ، جلال آباد اور دیگر بہت سے علاقوں اور دیہاتوں میں دینیات سنٹرز قائم کئے، تاکہ وہاں کے بچے قرآن مجید اور اہل بیتؑ کی تعلیمات سے محروم نہ رہیں۔ جامعۃ الزہراء کا قیام اور دیگر دینی مدارس کی سرپرستی بھی آپ کی خدمات میں سے ہے۔ آپ نے 8 دینی مدرسے اور 20 سے زیادہ مکاتب کی تاسیس کی۔ گلگت کی جامع مسجد کی تعمیر کے علاوہ مختلف علاقوں میں مساجد بھی تعمیر کروائیں۔
سید ضیاء الدین رضوی کی جانب سے جامع مسجد گلگت کی ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے وہاں کے سابقہ امام جماعت سید عباس علی شاہ حسینی نجفی نے مذہب اہل بیتؑ کی تبلیغ اور ترویج اور لوگوں کی اقتصادی حالت بہتر بنانے کے لئے بہت سے امور انجام دیئے تھے۔ ان امور میں سے ایک اقتصادی نظام کا قیام تھا۔ یہ اقتصادی نظام بغیر کسی خاص نام کے چل رہا تھا، لیکن سید ضیاء الدین رضوی نے 1989ء میں مرکزی امامیہ مسجد گلگت کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد باقاعدہ طور پر انتخابات کے ذریعے مسجد کمیٹی بنائی۔ اس نظام کو تعمیر ملت پروگرام کا نام دیا۔ جس میں ہر گھرانے کا سربراہ روزانہ ایک روپیہ جمع کرواتا تھا اور اس کے ذریعے آپ نے بہت سے فلاحی ادارے قائم کیے۔ سید کی شہادت کے بعد اس منصوبے کو اس وقت سید راحت حسین الحسینی چلا رہے رہیں۔
آپ نے اپنی عمر کے آخری سالوں میں پاکستان کے درسی نصاب کی کتابوں میں شیعہ تاریخ اور عقائد کے منافی مطالب کو الگ سے ایک پمفلٹ میں درج کیا اور پاکستانی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ یہ مواد کتابوں سے ہٹا دیا جائے اور تمام مسالک کا متفقہ نصاب تدوین کیا جائے، ورنہ شیعوں کے لیے سکولوں میں ایک الگ نصاب منظور کیا جائے، کیونکہ پاکستان کے آئین کے مطابق ہر شخص اپنے عقیدے کے تحت تعلیم حاصل کرنے اور جینے کا حق رکھتا ہے۔
بالآخر 3 جون 2004ء کو عوام نے آغا سید ضیاء الدین رضوی کی قیادت میں زبردست احتجاج کیا۔ اس احتجاج کو روکنے کے لئے فورسز نے طلباء پر فائرنگ کی، جس کے نتیجہ میں واجد حسین نامی ایک جوان شہید ہوگیا۔ یہ احتجاج ختم ہونے کے بجائے ایک تحریک میں تبدیل ہوگیا۔ آپ نے کئی سال تک اس تحریک کو جاری رکھا۔ آپ کا موقف اتنا واضح، روشن اور جاندار تھا کہ اہل سنت کی بعض برجستہ شخصیات نے بھی آپ کے مطالبات کی حمایت کی، مگر پاکستان کے دیگر علاقوں کے شیعہ اکابرین و علماء اس تحریک کی اہمیت کو نہ سمجھ سکے اور انہوں نے بروقت آپ کا ساتھ نہ دیا بلکہ بعض حلقوں کی جانب سے آپ کی تردید اور مخالفت بھی شروع ہوگئی، جس کی وجہ سے شہادت سے پہلے کے ایام میں آپ اکثر شاعرِ مشرق کا یہ شعر گنگنایا کرتے تھے:
اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں، بیگانے بھی ناخوش
میں زہرِ ہَلاہِل کو کبھی کہہ نہ سکا قند


































