
شاہ محمود قریشی کی ایرانی صدر اور ہم منصب سے ملاقاتیں، دو طرفہ علاقائی اور عالمی مسائل پر بات چیت، وزیر خارجہ نے ایرانی قیادت کو پاکستانی موقف سے آگاہ کیا
تہران کے بعد شاہ محمود قریشی ریاض پہنچے اور سعودی ہم منصب فیصل بن فرحان سے ملے، دونوں وزرائے خارجہ کی مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور امن و امان پر بات چیت
تہران/ریاض (نیوز ڈیسک) پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایران اور سعودی عرب کا دورہ کرکے خطے میں کشیدگی میں کمی پرتبادلہ خیال کیا، شاہ محمود قریشی پہلے تہران پہنچے جہاں انہوں نے ایرانی صدرحسن روحانی سے اہم دو طرفہ علاقائی اور عالمی مسائل پر بات چیت کی،انہوں نے جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت اورمسافر بردار طیارے کے سانحہ پرتعزیت و تسلیت پیش کی اور جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت کو المناک قرار دیا، وزیر خارجہ نے ایرانی قیادت کو پاکستانی موقف سے آگاہ کیا کہ پاکستان کشیدگی نہیں چاہتا، پاکستانی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، حسن روحانی نے کہا کہ ایران علاقے کے تمام ممالک کے ساتھ دوستانہ اور قریبی روابط کی برقراری میں دلچسپی رکھتا ہے، اسلامی امہ میں اختلافات اورجدائی کسی کے مفاد میں نہیں، موجودہ حالات میں ہم سب کو علاقے میں پائی جانے والی کشیدگی کو کم کرنے اور امن و استحکام کیلئے کوشش کرنی چاہئیے، ایران علاقے میں جنگ کے درپے نہیں تاہم اپنے مفادات کا دفاع کرتا رہے گا اس سے قبل پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے وزیرخارجہ ڈاکٹر محمدجواد ظریف سے اہم دو طرفہ علاقائی اور عالمی مسائل پر بات چیت کی،انہوں نے دورہ ایران کا آغاز مشہد مقدس میں حضرت امام رضا علیہ السلام کے حرم مطہرکی زیارت سے کیا،تہران کے بعد و ہ ریاض پہنچے اور سعودی ہم منصب فیصل بن فرحان سے ملاقات کی دونوں وزرائے خارجہ نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور خطے میں امن و امان کی صورتحال سمیت باہمی دلچسپی، علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا،سعودی وزیر خارجہ نے مشرق وسطیٰ اور خطے کو مزید کشیدگی سے بچانے کیلئے وزیراعظم عمران خان کی امن کاوشوں کو سراہا۔


































