
تل ابیب : صیہونی ذرائع ابلاغ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ حزب اللہ کے سربراہ سید حسن اللہ اسرائیل کو سرپرائز دینے کے منصوبوں پر غور کر رہے ہیں۔ حزب اللہ نے ماضی میں مختلف مواقع پر اسرائیل کو حیرت میں ڈالتے ہوئے جدید ترین اسلحہ استعمال کیا ہے۔ طوفان الاقصیٰ کے دوران بھی لبنانی تنظیم نے اپنی عسکری صلاحیت کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے۔ اس حوالے سے اسرائیلی میڈیا نے کہا ہے کہ حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصر اللہ اسرائیل کو دو مختلف مراحل میں سرپرائز دینے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ پہلے مرحلے میں ایسے اسلحوں کا استعمال کرنا ہے جن کو پہلے کبھی اسرائیل کے ساتھ تصادم کے دوران استعمال نہیں کیا گیا ہے اور دوسرا زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں کا استعمال ہے جن کے ذریعے صیہونی ڈرون جہازوں کو فضا میں تباہ کیا جائے گا۔
صیہونی مبصر لیرل عنتبی نے کہا ہے کہ حزب اللہ نے گزشتہ ہفتوں کے دوران اسرائیل کے خلاف میزائل بردار ڈرون طیاروں کو استعمال کرتے ہوئے دفاعی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ صیہونی فوج کو ان طیاروں کو تباہ کرنے میں ناکامی کا سامنا ہوا تھا، آئندہ مہینوں میں حزب اللہ ان طیاروں کو بڑے پیمانے پر استعمال کر سکتی ہے۔ عنتبی نے مزید کہا کہ حزب اللہ نے اسرائیلی طیاروں کو مختلف نوعیت کے میزائلوں سے تباہ کیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اسرائیلی عسکری نظام حزب اللہ کے مقابلے میں کارگر نہیں ہے۔


































