Sun Oct 11, 2026

یمن کے انتقامی حملوں کا خوف: متعدد ایئرلائنز نے سعودی عرب کے لیے پروازیں معطل یا منسوخ کر دیں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ، صدر مملکت نے سمری پر دستخط کردیے ریاض ایئرپورٹ پر انصار اللہ کا حملہ، 12 افراد ہلاک، 306 زخمی، پروازیں منسوخ ٹرمپ نوبیل انعام نہ ملنے کی رسوائی پر شدید برہم، انعام کمیٹی اور ناروے پر تنقید خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کے خلاف کارروائی آبنائے ہرمز تک محدود نہیں رہے گی، پاسدارانِ انقلاب آئی سی سی نے امریکی پابندیاں مسترد کر دیں امریکا نے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کردیں امریکی حکام تہذیبی جنگ کا بیانیہ بنانے سے قبل ماضی کے واقعات کا مطالعہ کریں، محسن رضائی ٹرمپ نے ایران سے جنگ چھیڑ کر امریکا کو رسوا کیا، امریکی سینیٹر گلگت بلتستان کے وسائل پر کسی بیرونی طاقت کو اثر انداز نہیں ہونے دیں گے، مرکزی انجمن امامیہ ٹرمپ کی پھر رسوائی، امن کا نوبل انعام انسانی حقوق کی وکیل ناوی پلے کے نام آبنائے ہرمز میں ایل پی جی گیس بردار جہاز پر حملہ، آگ لگ گئی پاکستان ہر خطرے کے مقابلے میں سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا رہے گا، وزیراعظم سعودی عرب انصار اللہ کے خلاف جنگ میں ایک بار پھر ماضی کے دلدل میں داخل ہو چکا ہے، نیویارک ٹائمز طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع

روزانہ کی خبریں

یورپ میں گرمی کی شدید لہر، فرانس میں 18 افراد ہلاک

پیرس: فرانس میں گرمی کی شدید لہر اور اس سے جڑے مسائل کے باعث کم سے کم 18 افراد جان سے گئے ہیں جن میں دو بچے بھی شامل تھے۔
برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق چند روز سے یورپی ممالک سخت گرمی کی لپیٹ میں ہیں اور پیر کو درجہ حرارت بلند ترین سطح تک پہنچا۔ فرانس میں اسکولوں کو بند کیا گیا ہے یا پھر ان کے اوقات تبدیل کیے گئے ہیں جبکہ دوسری جانب ماہرین نے پیش گوئی کی ہے کہ رواں ماہ کے دوران گرمی مزید بھی بڑھ سکتی ہے۔
بورڈآکس شہر میں درجہ حرارت 41 اعشاریہ نو ڈگری تک گیا جس پر پچھلے برس کے اگست کے مہینے کا ریکاڈ ٹوٹ گیا جبکہ وسطی فرانس کے شہر پوئیٹریز میں 41 اعشاریہ دو سیلسیس تک پہنچا جو 1947 کے بعد اس علاقے میں پڑنے والی اب تک کی سب سے زیادہ گرمی تھی۔
اسپین کے نسبتاً ٹھنڈے سمجھے جانے شہر سین سباسچیئن میں درجہ حرات 40 ڈگری تک پہنچ گیا اوریہ اس شہر میں روایتی طور پر پائے جانے والے موسم سے دو گنا سے بھی زیادہ ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یورپ اپنے روایتی موسم سے کافی دور ہوتا جا رہا ہے۔
ورلڈ میٹرو لوجیکل آرگنائزیشن نے اپریل میں جاری کی گئی ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ یورپ عالمی سطح پر بڑھنے والی گرمی کے مقابلے میں تقریباً دو گنا اضافے کے ساتھ گرم ہو رہا ہے۔
سخت گرمی کی وجہ سے لوگ ٹھنڈے اور تیراکی کے مقامات کا رخ کر رہے ہیں ، گرمی سے بچنے کے لیے 13 افراد مختلف مقامات پر نہاتے ہوئے ڈوب گئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پچھلے برس موسم گرما میں ڈوب کر ہلاک ہونے والوں کی شرح میں 172 فیصد دیکھنے میں آیا تھا کیونکہ اس وقت بھی گرمی زیادہ تھی اور لوگ ٹھنڈے مقامات کی طرف جا رہے تھے۔
لندن کے امپیریل کالج کے شعبہ موسم و آب وہوا سے وابستہ ریسرچ ایسوسی ایٹ کلیئر بارنس کا کہنا ہے کہ یورپ کو وسیع پیمانے پر متاثر کرنے والی گرمی کی اس لہر کو اومیگا بلاک کے طور پر جانا جاتا ہے کیونکہ سخت گرمی کی صورت میں یہ یونانی حرف جیسی شکل اختیار کر لیتی ہے یعنی اس صورت میں درمیان میں انتہائی گرم ہوا کا دباؤ ہوتا ہے جبکہ اس کے اطراف میں نسبتاً ٹھنڈی ہوا ہوتی ہے۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular