
تحریر: محمد رضا احمدی
فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک (حماس) نے آج جمعہ کو غزہ میں صیہونی حکومت کے جرائم کے 700ویں دن کی مناسبت سے ایک بیان جاری کیا اور ان جرائم پر عالمی برادری کی خاموشی پر شدید تنقید کی ہے۔ حماس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ غزہ میں صیہونی حکومت کی وحشیانہ نسل کشی اور شہریوں کے گھروں کی تباہی 700ویں دن میں داخل ہوگئی ہے اور اسرائیل کی دہشت گرد فوج نے اپنا خونی قتل عام جاری رکھا ہوا ہے۔ اس قتل عام کے دوران ہزاروں افراد شہید اور لاپتہ ہوگئے ہیں۔ حماس نے کہا ہے کہ اس عرصے کے دوران دنیا نے جدید تاریخ کی سب سے گھناؤنی نسل کشی کا مشاہدہ کیا ہے اور ان دنوں مجرم نیتن یاہو کی جنگی کابینہ نے جنگوں میں شہریوں کے تحفظ کے لیے بنائے گئے تمام بین الاقوامی اور انسانی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے اور کھلے عام کہا ہے کہ وہ ہمارے لوگوں کی نسل کشی اور بے گھر ہونے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔
غزہ پٹی پر اسرائیل کے حملوں نے علاقے میں بڑے پیمانے پر تباہی اور ماحولیاتی و صحت کے بحرانوں کو جنم دیا ہے۔ فلسطینی ذرائع کے مطابق ان حالات میں بچوں میں پولیو، گردن توڑ بخار (دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کی سوزش)، پھیپھڑوں میں شدید انفیکشن اور Guillain-Barré syndrome جیسی بیماریاں ایک بار پھر پھیل گئی ہیں۔ غزہ کی وزارت صحت نے اعلان کیا کہ حالیہ مہینوں میں:
گردن توڑ بخار کے 452 کیسز،
▪️ خارش کے 103,000 کیسز،
▪️ جلد پر خارش کے 65,000 کیسز،
▪️ چکن پاکس کے 11,000 کیسز،
▪️ ہیپاٹائٹس کے 71,000 کیسز
▪️ ریڑھ کی ہڈی کے بخار کے 1,160 کیسز اور Guillain-Barré syndrome کے 64 کیسز کی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں سے کئی بچوں کی موت ہوچکی ہے۔
تصاویر اور ہسپتال کی رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ بچے شدید سانس کے مسائل، عارضی فالج، شدید غذائی قلت اور دماغ اور اعصاب کو پہنچنے والے نقصان سے نبرد آزما ہیں۔ فلسطینی مزاحمت کار تنظیم نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ امریکی حکومت غزہ پٹی میں صیہونی حکومت کے جرائم کے تسلسل کی ذمہ دار ہے، کہا ہے کہ امریکہ اسرائیل کی دہشت گرد کابینہ کو سیاسی اور فوجی مدد فراہم کرتا ہے اور اسی وجہ سے اقوام متحدہ جیسے اداروں کی سرگرمیوں کو روکتا ہے؛ وہ ادارے جنہوں نے ان جرائم کو روکنے اور ان کے مجرموں کو سزا دینے کی کوشش کرنی تھی، امریکہ کی طرف سے اسرائیل کی حمایت کی وجہ سے وہ بے بس نظر آرہے ہیں۔ حماس نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ اس نے جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنے کے لیے زیادہ سے زیادہ لچک دکھائی ہے، لیکن ہماری لچک کے باوجود، مجرم نیتن یاہو ثالثوں کی کوششوں کو ناکام بنا رہا ہے اور ہماری قوم کے خلاف ایک نہ ختم ہونے والی جنگ جاری رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ایک ایسی جنگ جو صرف اس کی فاشسٹ کابینہ کے پروگراموں کو پورا کرتی ہے اور اسرائیل کے قیدیوں کی جانوں کی قیمت پر ختم ہو جائے گی۔ حماس نے یہ کہتے ہوئے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اس جنگ کے خلاف مذمتی بیانات اب کافی نہیں ہیں بلکہ اسرائیل کی نسل کشی کے خلاف روک تھام کے اقدامات کیے جائیں اور اگر اس نے اپنے جرائم کی بھاری قیمت ادا نہیں کی تو وہ یقینی طور پر اپنے جرائم جاری رکھے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل کا غزہ پر حملہ ایک حیران کن تعداد میں اموات، بے گھر ہونے اور بھوک سے متاثر ہونے کا سبب بنا ہے۔ دنیا نے اسے صرف دیکھا نہیں، اس میں شریک بھی ہوئی۔ مسلسل بمباری، منصوبہ بند بھوک، بڑے پیمانے پر بے دخلی، اور ناقابل بیان غم اور نام نہاد مہذب دنیا نے نہ صرف خاموشی سے دیکھا بلکہ ہر دن اس کو ممکن بنایا۔
ان 700 دنوں میں اسرائیل نے اسپتالوں، اسکولوں، مساجد، گرجا گھروں، بیکریوں اور پناہ گزین کیمپوں پر بمباری کی ہے۔ اس نے پورے خاندانوں کو قتل کیا، خاندانی نام مٹا دیئے۔ اس نے صحافیوں، اقوام متحدہ کی پناہ گاہوں، امدادی کارکنوں اور ایمبولینسوں کو نشانہ بنایا۔ اس نے لوگوں کو زندہ جلا دیا۔ اس نے خیموں کو تابوتوں میں بدل دیا۔ سات سو دن بہت ہوتے ہیں۔ یہ کبھی اتنا طویل نہیں ہونا چاہیئے تھا۔ ہر دن جو جاری رہتا ہے، وہ نئے سانحہ کو جنم دے رہا ہے۔ تاریخ یاد رکھے گی کہ یہ نسل کشی خفیہ طور پر نہیں ہوئی۔ یہ براہ راست ہوئی، ہر اسکرین پر، ہر زبان میں، ہر ملک کے ہر شہری نے اپنی آنکھوں سے دیکھی۔ اب واحد سوال یہ ہے کہ دنیا کو آخرکار “بس بہت ہوگیا” کہنے میں مزید کتنا وقت لگے گا۔؟


































