Sat Oct 10, 2026

آئی سی سی نے امریکی پابندیاں مسترد کر دیں امریکا نے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کردیں امریکی حکام تہذیبی جنگ کا بیانیہ بنانے سے قبل ماضی کے واقعات کا مطالعہ کریں، محسن رضائی ٹرمپ نے ایران سے جنگ چھیڑ کر امریکا کو رسوا کیا، امریکی سینیٹر گلگت بلتستان کے وسائل پر کسی بیرونی طاقت کو اثر انداز نہیں ہونے دیں گے، مرکزی انجمن امامیہ ٹرمپ کی پھر رسوائی، امن کا نوبل انعام انسانی حقوق کی وکیل ناوی پلے کے نام آبنائے ہرمز میں ایل پی جی گیس بردار جہاز پر حملہ، آگ لگ گئی پاکستان ہر خطرے کے مقابلے میں سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا رہے گا، وزیراعظم سعودی عرب انصار اللہ کے خلاف جنگ میں ایک بار پھر ماضی کے دلدل میں داخل ہو چکا ہے، نیویارک ٹائمز طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع مکہ معاہدہ ، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج آبنائے ہرمز میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کا حق نہیں، جنرل احمد وحیدی حالیہ جنگوں میں فورسز کا امن و امان قائم رکھنے میں کردار بے مثال رہا، ولی امر مسلمین ترکیہ کا فوجی دستے سعودیہ بھیجنے سے انکار، مکہ معاہدہ پارلیمنٹ میں لایا جائیگا، وزیرخارجہ انصار اللہ کے حملے میں سعودی طیارہ تباہ

روزانہ کی خبریں

سموترچ کا ایسٹ ون منصوبہ

تحریر: سید اسد عباس

اسرائیلی وزیر خزانہ سموترچ کی جانب سے پیش کردہ، مشرقی بیت المقدس اور مالی ادومیم کی بستی کے مابین 3,401 مکانات کی تعمیر کا منصوبہ جو E-1 (ایسٹ ون) کے نام سے جانا جاتا ہے، بنیادی طور پر یہ منصوبہ اسرائیل کے سابق وزیر اعظم اسحاق رابین نے 1990ء کی دہائی میں پیش کیا تھا، جس میں ابتدائی طور پر 2,500 گھر بنانے کی تجویز تھی۔ 2004ء میں اس کا دائرہ بڑھا کر تقریباً 4,000 یونٹس تک کر دیا گیا، جس میں تجارتی اور سیاحتی عمارتیں بھی شامل تھیں۔ 2009ء اور 2020ء کے درمیان زمین کی ضبطگی، نقشہ سازی اور سڑکوں کی تعمیر جیسے مختلف مراحل کا اعلان کیا گیا، لیکن ہر بار بین الاقوامی دباؤ کے باعث عمل درآمد روک دیا گیا۔ اسرائیل کے وزیر خزانہ سموتریچ نے اس منصوبے کو ایک تاریخی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فلسطینی ریاست کے قیام کے تصور کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دے گا۔

E-1 منصوبے کو ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام میں ایک بڑی رکاوٹ سمجھا جاتا ہے، کیونکہ یہ جنوبی اور شمالی بیت المقدس کے درمیان زمینی رابطہ منقطع کر دے گا۔ یہ مغربی کنارے کے اہم شہروں، رام اللہ اور بیت لحم کے درمیان بھی جغرافیائی رابطہ ختم کر دے گا۔ اسرائیلی گروپ پیس ناؤ کے مطابق، نئے یونٹس کی تعمیر سے ادومیم بستی میں 33 فیصد اضافہ ہوگا، جس کی موجودہ آبادی 38,000 ہے۔ یہ منصوبہ رہائشی علاقوں کو ملحقہ صنعتی زونز سے جوڑے گا، جس سے اسرائیل کو مغربی کنارے کے بڑے حصے پر اپنے کنٹرول کو مزید مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔ اسرائیلی تنظیم پیس ناؤ کے بیان میں کہا گیا کہ E-1 منصوبے کو حتمی منظوری کے لیے ایک ٹیکنیکل کمیٹی کے سامنے رکھا جائے گا، جو پہلے ہی اس پر تمام اعتراضات کو مسترد کر چکی ہے۔

سموترچ کے بیان اور منصوبے نے عالمی سطح پر ہل چل پیدا کردی ہے۔ فلسطینی اتھارٹی نے کہا ہے کہ منصوبہ فلسطینی علاقوں کی وحدت اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے ایک دھچکہ ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے یہ منصوبہ مغربی کنارے کے بارے میں ہے جہاں تقریبا 30 لاکھ فلسطینی اور 7 لاکھ یہودی آباد کار رہتے ہیں۔عالمی برادری فلسطینی علاقوں میں یہودی آبادکاری کی مخالف ہے عالمی عدالت انصاف نے جولائی 2024ء میں ایک فیصلے میں کہا تھا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیل کی مسلسل موجودگی غیر قانونی ہے اور آباد کاروں کو وہاں سے نکل جانا چاہیئے۔ عدالت نے مزید کہا تھا کہ مقبوضہ علاقوں میں فلسطینیوں پر اسرائیلی پابندیاں مذہب اور نسل کی بنیاد پر منظم امتیازی سلوک کے مترادف ہیں۔ سموترچ کے اعلان کے بعد اقوام متحدہ اور یورپی یونین نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ اس منصوبے کو آگے نہ بڑھائے۔

اقوام متحدہ کے مطابق E1 منصوبے سے ایک قابل عمل فلسطینی ریاست کے امکانات کو شدید نقصان پہنچے گا۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ کاجا کالس کے مطابق E1 منصوبہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور دو ریاستی حل کو کمزور کرتا ہے۔ برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی نے اس منصوبے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے مستقبل کی فلسطینی ریاست دو حصوں میں تقسیم ہو جائے گی اور یہ بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ ترکی کی وزارت خارجہ نے بھی اس منصوبے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بین الاقوامی قوانین کی توہین ہے اور اس سے فلسطینی ریاست کی علاقائی سالمیت کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ مصر نے بھی اس منصوبے کو عالمی قوانین سے متصادم اور سکیورٹی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ اُردن کی وزارت خارجہ نے بھی اس اسکیم کی مخالفت کرتے ہوئے اسے جون 1967ء کی سرحدوں پر مبنی ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام اور فلسطینی عوام کے ناقابل تنسیخ حق پر حملہ قرار دیا ہے جس کا دارالحکومت مشرقی بیت المقدس ہوگا۔

غزہ جنگ کے دوران اسرائیلی ریاست اور یہودی آباد کاروں نے مغربی کنارے میں بھی چھیڑ چھاڑ اور آپریشنز کا سلسلہ جاری رکھا۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق 2025ء کے پہلے چھ ماہ میں مغربی کنارے میں آباد فلسطینیوں پر یہودی آبادکاروں کی جانب سے 757 حملے ریکارڈ کیے گئے ہیں، اور فقط پچھلے ماہ ان حملوں میں 100 فلسطینیوں کی شہادتیں ہوئی ہیں۔ سموترچ نے منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے ٹرمپ اور امریکی سفیر مائیک ہکابی کا بھی شکریہ ادا کیا اور ساتھ ان ممالک کو دھمکی دی جو اسرائیلی ریاست کو قبول کرنے کا عندیہ دے رہے ہیں کہ زمین پر آپ ہمارا جواب دیکھ لیں گے۔ سموترچ کا کہنا تھا کہ دستاویزات، فیصلوں اور بیانات سے نہیں بلکہ ہم گھروں ، محلوں اور بازاروں کی تعمیر سے جواب دیں گے۔

یہ کھلی بدمعاشی اور جارحیت ہے جس کا ارتکاب اسرائیلی غاصب اکائی اور اس کی دائیں بازو کی جماعت کرنے جا رہی ہے۔ غزہ کی پٹی سے فلسطینی آبادی کا خاتمہ اور اب مغربی کنارے کی مزید تقسیم یقیناً فلسطینی ریاست کے وجود کے امکان کو ختم کردے گی۔ ہم جانتے ہیں کہ کسی بھی ریاست کے قیام کے لیے مستقل باسیوں، جغرافیائی خطہ اور وہاں قائم نظام کی ضرورت ہوتی ہے، اگر ان میں سے کوئی ایک بھی نہ ہو تو ریاست قائم نہیں ہو سکتی۔ مغربی ممالک جو گذشتہ چند ماہ سے فلسطینی ریاست کے قبول کرنے کا عندیہ دے رہے ہیں وہی ہیں جنھوں نے اس خطے پر پہلے برطانوی مینڈیٹ کو تسلیم کیا تھا اور اس کے بعد بیلفور معاہدے کے ذریعے اسرائیلی ریاست کے قیام کو جواز بخشا۔

ان ریاستوں نے اسرائیل کو تو فورا قبول کر لیا تاہم 1948ء سے 2025ء تک نہ جانے یہ کس چیز کا انتظار کرتے رہے۔ اب اچانک ان کو دوبارہ فلسطینی ریاست یاد آگئی ہے جو اقوام عالم کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے ایک حربے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ غزہ ہو یا مغربی کنارہ یہ خلافت عثمانیہ اور امت کی میراث تھی اب جبکہ اس کا کوئی وارث بننے کو تیار نہیں تو یہ اس بات کا غماز ہے کہ نہ خلافت عثمانیہ رہی اور نہ ہی امت۔ آج دنیا میں مسلم ریاستیں ہیں جن کے اپنے مفادات اور جغرافیائی سرحدیں ہیں، ان ریاستوں کو دعا کرنی چاہیئے کہ اسرائیل کی پیاس فلسطین سے بجھ جائے، اگر دریا سے دریا تک کا منصوبہ حقیقی ہے تو بات فقط فلسطین پر نہیں رکے گی، لبنان، شام، عراق اور حجاز بلکہ تمام اسرائیل مخالف مسلم ریاستوں کو فلسطین جیسی سازشوں کے لیے تیار رہنا چاہیئے۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular