Sun Oct 11, 2026

آئی سی سی نے امریکی پابندیاں مسترد کر دیں امریکا نے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کردیں امریکی حکام تہذیبی جنگ کا بیانیہ بنانے سے قبل ماضی کے واقعات کا مطالعہ کریں، محسن رضائی ٹرمپ نے ایران سے جنگ چھیڑ کر امریکا کو رسوا کیا، امریکی سینیٹر گلگت بلتستان کے وسائل پر کسی بیرونی طاقت کو اثر انداز نہیں ہونے دیں گے، مرکزی انجمن امامیہ ٹرمپ کی پھر رسوائی، امن کا نوبل انعام انسانی حقوق کی وکیل ناوی پلے کے نام آبنائے ہرمز میں ایل پی جی گیس بردار جہاز پر حملہ، آگ لگ گئی پاکستان ہر خطرے کے مقابلے میں سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا رہے گا، وزیراعظم سعودی عرب انصار اللہ کے خلاف جنگ میں ایک بار پھر ماضی کے دلدل میں داخل ہو چکا ہے، نیویارک ٹائمز طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع مکہ معاہدہ ، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج آبنائے ہرمز میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کا حق نہیں، جنرل احمد وحیدی حالیہ جنگوں میں فورسز کا امن و امان قائم رکھنے میں کردار بے مثال رہا، ولی امر مسلمین ترکیہ کا فوجی دستے سعودیہ بھیجنے سے انکار، مکہ معاہدہ پارلیمنٹ میں لایا جائیگا، وزیرخارجہ انصار اللہ کے حملے میں سعودی طیارہ تباہ

روزانہ کی خبریں

روس کا جوابی حملہ

تحریر: اتوسا دیناریان

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 53 ویں اجلاس میں روسی مندوب نے افغانستان میں امریکہ کی طرف سے کیے جانے والے جرائم کی معلومات کو جمع کرنے اور اس حوالے سے تحقیقات کو جاری رکھنے کا مطالبہ کیا۔ روس کے سفارت کار یاروسلاو یرمین نے اس ملاقات میں کہا: عالمی برادری کو چاہیئے کہ وہ افغانستان میں 20 سالہ موجودگی کے دوران امریکی اور نیٹو فوجیوں کے جنگی جرائم کو فراموش نہ کرے۔ جارج ڈبلیو بش کے دور صدارت میں، 11 ستمبر 2001ء کے حملوں کے بعد، امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف نام نہاد عالمی جنگ کے بہانے افغانستان پر حملہ کرکے قبضہ کر لیا اور طالبان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ امریکہ نے طالبان پر القاعدہ کے ساتھ تعاون کا الزام لگایا تھا۔
اگرچہ اس ملک پر 20 سال کے قبضے کے دوران امریکہ نے ہمیشہ انسانی حقوق کے دفاع، افغانستان میں آزادی اور جمہوریت کے قیام اور دہشت گردی سے لڑنے کا دعویٰ کیا، لیکن امریکی فوجیوں کے انخلا اور امریکی قبضے کے دور کی دستاویزات سامنے آنے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ یہ تمام امریکی دعووں کے خلاف تھا۔ امریکی اور نیٹو فوجیوں کے ہاتھوں افغان عوام کے قتل عام سے امریکی دعوے مکمل طور پر غلط ثابت ہوتے ہیں۔ درحقیقت امریکہ نے افغانستان میں اپنی دو دہائیوں کی موجودگی کے دوران اس ملک میں انسانی حقوق کی بہت سی خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔ اس دوران امریکی جنگی طیاروں کی بمباری سے بڑی تعداد میں افغان عوام جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، کئی بچے مارے گئے اور اور عام شہریوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔
اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق افغانستان میں امریکی موجودگی کے صرف آخری تیس ماہ کے دوران اس ملک میں 6,320 بچے ہلاک یا زخمی ہوئے۔ امریکی فوج کے تازہ ترین حملوں میں سے ایک میں کابل کے ہوائی اڈے کے نواح میں ایک گھر کو ڈرون سے نشانہ بنایا گیا۔ ڈرون حملے کے نتیجے میں سات بچوں سمیت دس افراد مارے گئے۔ بعد میں امریکیوں نے بڑی ڈھٹائی سے اسے غیر ارادی قرار دیا۔ گذشتہ دو دہائیوں کے دوران افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج کی موجودگی کا نتیجہ عدم تحفظ، غربت، منشیات کی پیداوار اور اسمگلنگ اور دہشت گردی کے پھیلاؤ میں اضافے کے سوا کچھ برآمد نہیں ہوا۔ اقوام متحدہ کے انسپکشن شعبے کے سربراہ جنرل جان سوپکو نے ایک رپورٹ میں لکھا ہے: "امریکی افغانستان میں مالی وسائل خرچ کرنے کا جو دعویٰ کرتے ہیں، اس کا ان افغان عوام کی زندگیوں میں بہتری پر کوئی اثر نہیں پڑا، جو جنگ اور تباہی کا شکار تھے بلکہ اس سے وسیع پیمانے پر تباہی ضرور دیکھنے کو ملتی ہے۔
اگرچہ انخلا کے آغاز سے ہی ہیومن رائٹس واچ جیسی کچھ بین الاقوامی تنظیموں نے "انٹرنیشنل کریمنل کورٹ” سے کہا کہ وہ افغانستان میں تمام فریقوں کے جنگی جرائم کی تحقیقات کرے، لیکن کچھ عرصے بعد امریکی دباؤ اور دھمکیوں کی وجہ سے بین الاقوامی فوجداری عدالت نے افغانستان میں جنگی جرائم کی تحقیقات روک دیں۔ عدالت نے فوجیوں کے جنگی جرائم کی تفتیش پر روک لگا دی۔ افغانستان میں جنگی جرائم کی تحقیقات 2020ء میں معطل کر دی گئیں، تاہم امریکہ کے جرائم کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری جانب امریکہ کا جرائم کے حوالے سے سیاسی دوہرا رویہ ایک ایسے وقت کھل کر سامنے آیا ہے، جب عالمی فوجداری عدالت نے امریکہ کے مطالبے کے پر یوکرین میں جنگی جرائم کا الزام لگاتے ہوئے روسی صدر ولادی میر پیوٹن کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے ہیں۔
اس عدالت نے دعویٰ کیا کہ پیوٹن "جنگی جرائم کے ارتکاب کے ذمہ دار ہیں، کیونکہ وہ یوکرین کے مقبوضہ علاقوں سے بچوں کی غیر قانونی روس منتقلی کے ذمہ دار ہیں۔ اسی تناظر میں روس کے وزیر خارجہ "سرگئی لاوروف” نے افغانستان میں مغرب کی طرف سے کیے جانے والے جنگی جرائم کی تحقیقات میں ناکامی پر تنقید کی اور کہا کہ امریکہ اور مغرب نے اس مسئلے سے بچنے کے لیے بین الاقوامی فوجداری عدالت کا بائیکاٹ کیا۔ ایسا لگتا ہے کہ روس کی جانب سے امریکی جرائم کی پیروی کے لیے ماسکو کی بار بار درخواست اور اصرار کا مقصد انسانیت کے خلاف جرائم کے حوالے سے مغرب اور بین الاقوامی فوجداری عدالت جیسے اداروں کے دوہرے رویئے کو دنیا کے سامنے زیادہ سے زیادہ بے نقاب کرنا ہے۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular