
تحریر: اتوسا دیناریان
فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے نمائندوں کے روس کے دارالحکومت ماسکو کے دورے کے بعد صیہونی حکومت اور روس کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے۔ اس سلسلے میں صیہونی حکومت کی وزارت خارجہ نے مقبوضہ علاقوں میں روس کے سفیر اناتولی وکٹروف کو طلب کرکے حماس کے وفد کے دورہ ماسکو پر احتجاج کیا۔ شائع شدہ اطلاعات کے مطابق فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے ایک وفد نے اس تحریک کے سیاسی بیورو کے رکن "موسیٰ ابو مرزوق” کی سربراہی میں روس کے متعدد سیاسی عہدیداروں سے ملاقات اور گفتگو کی۔ روس کی وزارت خارجہ نے اس تناظر میں اعلان کیا ہے کہ حماس کے وفد سے ملاقات کے دوران انہوں نے یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ کی پٹی سے روسی شہریوں کے انخلاء پر تبادلہ خیال کیا۔
تحریک حماس نے بھی فلسطینیوں اور صیہونی حکومت کے درمیان تنازع کے حوالے سے روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے موقف اور غزہ پر صیہونی حکومت کے حملوں کو روکنے کے لیے ماسکو کی سفارتی کوششوں کو سراہا۔ ادھر صیہونی حکومت کے نائب وزیر خارجہ برائے یورپی اور ایشیائی امور سائمن ہالپرین نے روسی سفیر سے کہا کہ اسرائیل ماسکو کی جانب سے حماس کی واضح مذمت نہ کرنے کو بہت سنجیدگی سے لیتا ہے۔ صیہونی حکومت اور روس کے درمیان تعلقات گذشتہ برسوں کے دوران خطے کے سیاسی حالات اور پیش رفت سے متاثر ہوئے ہیں۔ شام کے بحران اور اس بحران میں ماسکو کے داخلے کے بعد ان کشیدگیوں میں اتار چڑھاؤ کا سامنا رہا، لیکن گذشتہ ایک سال کے دوران یوکرین میں جنگ کے ساتھ ہی روس اور صیہونی حکومت کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
صیہونی حکومت کا یوکرین کے ساتھ مغربی ممالک کے ساتھ تعاون بالخصوص کیف کے بارے میں واشنگٹن کی پالیسیوں کے ساتھ ہم آہنگی نے روس اور صیہونی حکومت کے درمیان کشیدگی میں اضافہ کیا ہے۔ صیہونی حکومت کی طرف سے یوکرین کو فوجی سازوسامان بھیجنا اور روس کے خلاف مغربی پابندیوں کی حمایت سمیت امریکی پالیسیوں سے ہم آپنگی دونوں فریقوں کے درمیان تعلقات میں تناؤ کا باعث بنی۔ یہ کشیدگی حالیہ مہینوں میں یوکرین میں جنگ میں شدت اور روس کے خلاف صیہونی حکومت کے موقف کے ساتھ شدت اختیار کر گئی ہے۔ کچھ عرصہ قبل اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی کے درمیان ملاقات کے بعد ماسکو نے صیہونی حکومت کو روسی اسٹاک مارکیٹ سے نکال دیا۔
حالیہ ہفتوں میں فلسطینیوں کے خلاف صیہونی حکومت کے حملوں میں شدت آنے کے ساتھ ہی روسی حکام نے ہمیشہ صیہونی حکومت کے حملے بند کرنے اور جنگ بندی کے قیام کا مطالبہ کیا ہے۔ غزہ کے عوام پر صیہونی نسل پرست حکومت کے انتھک حملوں کے نتیجے میں گذشتہ چند ہفتوں کے دوران ہزاروں شہری شہید اور زخمی ہوچکے ہیں۔ اس دوران امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے صیہونی حکومت کی مدد کے لیے اپنے تمام وسائل بروئے کار لائے ہیں، جبکہ عالمی برادری نے صیہونی حکومت کے جرائم کی مذمت کی ہے اور موجودہ بحران کے خاتمے کے لیے مختلف منصوبے پیش کیے ہیں، صیہونی حکومت کے رہنماؤں نے گذشتہ چند دنوں کے دوران بارہا اعلان کیا ہے کہ وہ صیہونی حکومت کے حملوں کے خاتمے کے لیے ثالثی قبول کرنے کے لیے تیار ہیں۔ یہ مسئلہ سینیئر روسی حکام کی توجہ میں لایا گیا ہے۔
اس تناظر میں روس کے صدر ولادیمیر پوٹن نے کہا: "عالمی برادری کو ان حملوں کا شکار ہونے والے شہریوں کے بارے میں سوچنا چاہیئے، روس غزہ کے بحران کے حل اور حماس و صیہونی حکومت کے درمیان جاری تنازع کو ختم کرنے کے لیے تیار ہے۔ روس کے اعلانات اور ثالثی کی کوششوں کے باوجود صیہونی حکومت کی طرف سے غزہ پر بمباری جاری ہے۔ اب حماس کے ایک وفد کے ماسکو کے دورے سے روس کے خلاف صہیونی حکام کا غصہ اور بھی بڑھ گیا ہے۔ صیہونی حکومت کے خلاف روس کے تنقیدی مؤقف اور ماسکو کے اقدامات کے خلاف اس کے معاندانہ رویئے، نیز حماس کے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ روسی حکام کی ملاقات کو مدنظر رکھتے ہوئے، مستقبل میں فریقین کے درمیان سیاسی کشیدگی میں مزید شدت آنے کی توقع ہے۔


































