
ماسکو : روسی وزیرِخارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ ماسکو مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل، ایران یا امریکا کے درمیان ثالثی کے لیے خود کو مسلط نہیں کر رہا بلکہ موجودہ سفارتی چینلز کے ذریعے بات چیت کر رہا ہے۔ روسی وزیرِخارجہ سرگئی لاوروف نے ایک انٹرویو میں کہا کہ روس اس وقت کسی بھی فریق پر دباؤ ڈال کر ثالثی نہیں کر رہا بلکہ اسرائیل، ایران اور امریکا کے ساتھ صورتحال پر تبادلۂ خیال کر رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ روس تناؤ کم کرنے اور پچھلے معاہدوں کی پاسداری میں تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ لاوروف نے ایران کو ایک قریبی شراکت دار اور ہمسایہ ملک قرار دیا اور خبردار کیا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان بڑھتی کشیدگی خطے کے لیے خطرناک نتائج پیدا کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال پوری مشرقِ وسطیٰ کے لیے ممکنہ طور پر دھماکہ خیز ہے، اور بہت سے خطرات ایسے ہیں جو کسی بھی لمحے پھٹ سکتے ہیں۔


































