
2 سال سے 7 سال تک کے بچے:
اس دور میں بچے اپنی زیادہ تر انرجی دوسروں کا دل جیتنے میں صرف کرتے ہیں؛ جن میں اہم ترین منبع اس کے گھر والے ہیں۔
اس دوران میں اگر اس کے اچھے کاموں کی مناسب طریقے سے حوصلہ افزائی کی جائے تو وہ مزید اچھے کاموں کی طرف راغب ہوتا ہے۔
حوصلہ افزائی مادی بھی ہوسکتی ہے جیسے اس کی پسند کی کوئی چیز خرید کر دینا،
یا غیر مادی بھی ہوسکتی ہے جیسے، اس کے اچھے کام پر مسکرانا، پیار کرنا، تالیاں بجانا، زبانی تعریف کرنا، کھیلنا وغیرہ۔۔
اور یہ زیادہ اثر گزار ثابت ہوتی ہے۔
اس دور کی ایک اور خصوصیت ہے کہ بچہ دوسروں کے ایمان کی وہ خصوصیات جو واضح محسوس ہوتی ہیں، اس کو کاپی کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ مثلا گھر میں جو دینی اعمال انجام پاتے ہیں جیسے، نماز، ادب، اوڑھنے پہننے کا انداز، وغیرہ
اس دور میں ہم والدین یہ کام کرسکتے ہیں:
وہ جن اچھی چیزوں کی کاپی کریں، اس کی حوصلہ افزائی کرکے پروان چڑھائیں۔
اس کے ذہن میں خدا کے بارے میں اٹھنے والے سوالوں کے اس کی عمر کے حساب سے مطمئن کرنے والے جواب دیں۔
گھر کا ماحول: مثلاً گھر کی دیواروں پر دینی فریم ہوں، قرآن پڑھا جاتا ہو، بعض دفعہ گھر میں دعا کا پروگرام رکھیں وغیرہ۔۔۔
ایسا پلیٹ فارم فراہم کریں کہ وہ معاشرے میں شعائر دینی سے آشنا ہو: مثلاً نماز جماعت، مجلس، دعائیہ پروگرامز میں لے کر جائیں، خاص دنوں میں بچوں کی سبیل لگانے کا اہتمام، وغیرہ۔۔۔
دینی اکٹیوٹیز اس کے بچپن کے ذہن میں یادگار لمحات کی صورت میں محفوظ ہوجائیں۔


































