
دوحہ : قطری وزیرِ اعظم محمد بن عبداللّٰہ رحمٰن بن جاسم الثانی نے کہا ہے کہ غزہ پر اسرائیل کے حالیہ حملوں سے واضح ہوتا ہے کہ وہ جنگ بندی میں سنجیدہ نہیں ہے۔ سی این این کو انٹرویو میں قطری وزیرِ اعظم نے کہا کہ وہ مزاکرات میں کوئی جلد پیشرفت نہیں دیکھ رہے۔ جب تک اسرائیل کی جانب سے غزہ پر بمباری کا سلسلہ جاری ہے تو کیسے مان لیا جائے کہ جنگ بندی میں سنجیدہ ہے۔ قطری وزیراعظم نے کہا کہ انہیں امید تھی کہ امریکی فوجی ایڈن الیگزینڈر کی رہائی ایک ایک پیش رفت ہوگی جس سے مذاکرات کو پٹری پر لانے میں مدد ملے گی لیکن اسرائیل نے اس کے بجائے غزہ پر حملے تیز کرنے کا انتخاب کیا۔ الثانی نے یہ بھی کہا کہ نئے بنائے گئے گروپ کے ذریعے غزہ میں امداد کی تقسیم کا امریکی حمایت یافتہ منصوبہ غیر ضروری ہے۔ انسانی ہمدردی اور اقوام متحدہ کے امدادی گروپوں نے کہا ہے کہ ان کے پاس پہلے ہی غزہ تک امداد پہنچانے کے ذرائع موجود ہیں لیکن اسرائیل کی جانب سے انہیں ایسا کرنے سے روکا جا رہا ہے۔


































