
تہران : ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران امریکا کے ساتھ امن اور سفارت کاری کے لیے تیار ہے واشنگٹن کی دھمکیوں کے باوجود تہران مذاکرات کا دروازہ بند نہیں کر رہا۔ کسی ممکنہ معاہدے تک پہنچنا اب بھی ممکن ہے۔ امریکی میڈیا کو انٹرویو میں عباس عراقچی نےکہا کہ دو سے تین روز میں ممکنہ جوہری معاہدے کا ابتدائی مسودہ تیار کر لیں گے، منظوری ملنے پر یہ دستاویز امریکی خصوصی ایلچی کے حوالے کر دی جائے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں جوہری افزودگی روکنے کی پیشکش نہیں کی، نہ ہی امریکا نے ایسا کوئی مطالبہ کیا ہے۔دونوں ممالک کے مذاکرات کار تیز رفتار معاہدے پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جوہری معاملے کا کوئی فوجی حل نہیں، جوہری معاملے کا واحد حل سفارتی مذاکرات اور سفارتی حل تک پہنچنا ہے، لیکن اگر کسی معاہدے تک نہ پہنچ سکے تو ایران اپنے دفاع میں ضروری اقدامات کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر امریکا نے حملہ کیا تو اس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو جائےگی، امریکی حملہ ناصرف ایران بلکہ پورے خطے اور عالمی برادری کے لیے تباہ کن نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔


































