
- جب انسان عقل و شعور اور رشد فکری کا مرحلہ طے کرتا ہے تو اپنے اور کائنات کی دوسری مخلوقات کے بارے میں غور و فکر کرتا ہے اور یہ درک کر لیتا ہے کہ اس میں اور باقی مخلوقات میں فرق ہے لہٰذا وہ اپنی زندگی کو ایک منظم اور باارادہ زندگی قرار دیتا ہے اور زندگی کے نشیب و فراز میں ماں باپ ہی کو اپنا ہمدرد اور مددگار تصور کرتا ہے۔
قدرتی طور پر اس کا دل والدین کے لیے نرم گوشہ رکھتا ہے۔ ان کے چہرے کی زیارت تسکین قلب کا وسیلہ ہے جب کہ ان سے دوری انسان پر شاق گزرتی ہے اور سب سے بڑھ کریہ کہ والدین کا احترام اور ان سے محبت کرنا زمان و مکان سے بالاتر فطری امر ہے۔
یہ بھی اپنی جگہ ایک مسلم حقیقت ہے کہ معاشرتی اور بیرونی عوامل اس فطری اور طبیعی چاہت پر اثر انداز ہو جاتے ہیں اور اس کی شدت و ضعف کا باعث بنتے ہیں۔
قرآن کی متعدد آیات میں والدین کااحترام کرنا کسی خاص گروہ سے مخصوص نہیں کیا گیا ہے۔
ارشاد خداوندی ہے: اور ہم نے انسانو ں کو اپنے ماں باپ کے ساتھ نیک برتاؤ کرنے کی نصیحت کی ہے۔
خدا نے مذکورہ آیت میں انسانوں سے خطاب کر کے یہ بتلایا ہے کہ والدین کا احترام رکھنے کا جذبہ اور شعور اللہ تعالی نے پہلے سے ہی ہر انسان کی فطرت میں رکھ دیا ہے۔


































