
زندگى كى مشكلات ميں سے ايک مشكل، شوہر كے رشتہ داروں سے بيوى كا اختلاف ہے۔ اكثر عورتيں اپنے شوہر كى ماں، بہن اور بھائيوں سے مل جل كر نہيں رہتی اور ہميشہ لڑائي جھگڑا رہتا ہے۔
▪ مشكل يہ ہے كہ دونوں طرف ايسے افراد ہيں كہ جن سے مرد آسانى كے ساتھ دستبردار نہيں ہوسكتا، ايک طرف اس كى بيوى ہے جو اپنے ماں باپ كو چھوڑ كر سينكڑوں اميدوں اور آرزوؤں كے ساتھ اس كے گھر آئي ہے دوسرى طرف ماں باپ جنہوں نے سالہا سال تكليفيں اٹھائيں۔ بڑى اميدوں اور آرزؤں كے ساتھ مجھے پالا پوسا اور بڑا كيا۔ مجھے پڑھایا لكھايا، روزگار فراہم کیا اور ميرى شادى كى۔ وہ مجھ سے توقع ركھتے ہيں كہ ضعيفى ميں ان كا سہارا بنوں۔
اس موقع پر ايک عاقل انسان اپنے آپ كو بڑى مشكل ميں گرفتار پاتا ہے۔ يہ كام بہت دشوار ہے ليكن اگر بيوى سمجھدار اور موقع شناس ہو اور ہٹ دھرمى سے كام نہ لے تو يہ مشكل آسان ہو جاتى ہے۔ ايسے ہى موقع پر مرد، اپنى بيوى سے جو كہ اس سے سب سے قريب اور اس كى سب سے بڑى غمگسار ہوتى ہے تو وہ اس سے توقع كرتا ہے كہ اس مشكل كو حل كرنے ميں اس كى مدد كرے۔
خواہر عزيز! اپنے شوہر كى خوشنودى كے لئے، اپنے سكون و آرام كے لئے، اپنے سچے خيرخواہ اور حامى ومددگار پيدا كرنے كے لئے اور اپنے شوہر كى محبت حاصل كرنے كى غرض سے اپنے اور اپنے شوہر كے رشتہ داروں كے ساتھ ميل ملاپ رکھیں۔ ايثار و قربانى سے كام ليجئے تاكہ خدا اور اس كے بندوں كى نظروں ميں آپ محبوب و محترم ہوں۔


































