
تل ابیب : اسرائیل کی مقبوضہ مغربی کنارے میں سولر توانائی کی تیز رفتار توسیع غیرقانونی صیہونی آبادکاری کو فروغ دے رہی ہے جبکہ فلسطینی کمیونٹیز بجلی سے محروم ہیں، بے دخلی میں اضافہ اور اسرائیلی قبضہ مضبوط ہو رہا ہے۔
اسرائیلی میگزین پلس نائن سیون ٹو کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی سولر منصوبے صرف غیرقانونی صیہونی آبادکاری کے حق میں کام کر رہے ہیں، جبکہ فلسطینی کمیونٹیز تک بجلی نہیں پہنچتی اور ان کی سولر تنصیبات اکثر آبادکار تباہ یا اسرائیلی فوجی ہٹادیتے ہیں۔ رپورٹ میں وادی اردن میں شادموت مہولا جیسے علاقوں میں بڑے سولر فارمز کی مثال دی گئی ہے۔جنہیں بین الاقوامی کمپنیاں اور حکومت کے اسپانسرز پروگرام سپورٹ کرتے ہیں۔ یہ تنصیبات سینکڑوں آبادکاروں کو بجلی فراہم کرتی ہیں، آمدنی پیدا کرتی ہیں اور اسرائیلی پاور گرڈ کے ساتھ مربوط ہوتی ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں خبردار کرتی ہیں کہ یہ منصوبے براہِ راست فلسطینیوں کی بے دخلی اور صیہونی آبادکاری کے انفراسٹرکچر کے پھیلاؤ میں مددگار ہیں۔


































