
کراچی: معروف سماجی رہنما مرحوم عبدالستار ایدھی کی بیوہ اور ممتاز سماجی کارکن بلقیس ایدھی کا انتقال ہو گیا ہے۔ مرحومہ کی عمر 74 سال تھی۔ وہ گزشتہ چند روز سے نجی اسپتال میں زیرعلاج تھیں۔عارضہ قلب میں مبتلا بلقیس ایدھی کی دوران علاج طبیعت خراب ہوئی تو انہیں وینٹی لیٹر پر منتقل کیا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکیں اور داعی اجل کو لبیک کہہ گئیں۔ سندھ حکومت نے بلقیس ایدھی کی تدفین سرکاری سطح پر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایدھی صاحب کا پورا خاندان فلاحی کاموں میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایدھی صاحب کی آخری رسومات سرکاری سطح پر ہوئی تھیں، کوشش ہے کہ بلقیس ایدھی کی آخری رسومات بھی اس ہی طرح ہوں۔ پاکستان کی سب سے بڑی فلاحی تنظیم ایدھی فاؤنڈیشن کو بنانے میں بلقیس ایدھی نے اپنے مرحوم خاوند عبدالستار ایدھی کا بھرپور ساتھ دیا۔ مرحومہ نے صرف 16سال کی عمرمیں عبدالستار ایدھی کے نرسنگ اسکول سے نرسنگ کی تربیت حاصل کی۔انہوں نے اسی ادارےمیں 2برس تک خدمات انجام دیں اوراس کےبعد عبدالستار ایدھی سے شادی ہوئی جس کے بعد انہوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ حکومت پاکستان کی جانب سے انہیں ہلال امتیاز سے نوازا گیا جب کہ بھارت کی جانب سے 2015 میں مدر ٹریسا ایوارڈ دیا گیا۔عالمی شہرت یافتہ سماجی کارکن بلقیس ایدھی کے انتقال پر وزیراعظم میاں شہباز شریف نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے مرحوم عبدالستار ایدھی کے انسانیت کی خدمت کے مشن کو جاری رکھا۔ انہوں نے روح کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلقیس ایدھی کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔


































