
تل ابیب: اسرائیلی کنیسٹ نے فلسطینی قیدیوں کے لیے سزائے موت کے متنازعہ بل کی ابتدائی منظوری دے دی ہے۔ یہ متنازع بل قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر کی جماعت یہودی پاور نے پیش کیا، جو ان فلسطینیوں کو سزائے موت دینے کی اجازت دیتا ہے جن پر اسرائیلی شہریوں کو نفرت یا اسرائیل کو نقصان پہنچانے کے ارادے سے قتل کرنے کا الزام ہے۔ بل سولہ کے مقابلے میں انتالیس ووٹوں سے منظور کرلیا گیا۔
ایتمار بن گوئر نے اسے تاریخی لمحہ قرار دیا۔ جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسے فلسطینیوں کے خلاف امتیازی اقدام اور اسرائیلی قبضے کے نظام کو مزید مضبوط کرنے کی کوشش قرار دیا۔ اسی اجلاس میں کنیسٹ نے نام نہاد الجزیرہ قانون کی بھی پہلی منظوری دی، جو حکومت کو عدالت کے حکم کے بغیر غیر ملکی میڈیا ادارے بند کرنے کے وسیع اختیارات دیتا ہے۔


































