ایک شہر میں اکرم نامی امیر آدمی رہتا تھا۔ وہ امیر ہونے کے علاوہ بڑا مہربان اور انصاف پسند بھی تھا۔ اس کے محل کے پاس ایک بڑا جنگل تھا۔ اس جنگل میں دو بھائی(احمد اور وسیم) رہتے تھے۔ یہاں ان کی کھیتی باڑی ہوتی تھی۔ دونوں بھائیوں کی طبیعت اور عادت میں بڑا فرق تھا۔ چھوٹا بھائی وسیم لالچی اور کنجوس تھا۔ اس کا کھیت بہت آباد اور ہرا بھرا تھا۔ اس کے ہاں پیداوار بہت زیادہ ہوتی تھی اور وہ بہت دولت مند مشہور تھا، مگر اس شخص کو جس چیز نے بہت زیادہ مشہور کردیا تھا وہ اس کا ایک سفید گھوڑا تھا۔ جن لوگوں کو گھوڑے کی سواری کا شوق تھا ، وہ سب اس گھوڑے پر للچائی ہوئی نظریں ڈالا کرتے تھے، یہاں تک کہ اکرم کو بھی اکثر یہ آرزو ستاتی رہتی کہ کاش یہ گھوڑا اس کا ہوتا۔
لالچی بھائی نے لوگوں کو اس گھوڑے کا بہت مشتاق پاکر اس کی قیمت بہت زیادہ چڑھا رکھی تھی، اس لئے کسی کو اس کے خریدنے کی ہمت نہ ہوتی تھی۔ لالچی شخص کے کھیت سے کچھ دور اس کے بڑے بھائی احمد کا ایک چھوٹا ساکھیت تھا۔ یہی کھیت ان دونوں میاں بیوی کی روٹی روزی کا ذریعہ تھا۔ اس کھیت سے جو کچھ پیدا ہوتا تھا وہ اتنا کم ہوتا کہ ان کی زندگی تنگی سے گزرتی اور تکلیف اٹھا کر زندگی بسر کرنا پڑتی تھی۔ یہ حال تو اس کے بھائی کی مفلسی کا تھا، لیکن اس کی عادتیں بہت اچھی تھیں۔ وہ بڑا شریف اور مہربان انسان تھا۔ لوگوں سے بہت نرمی سے پیش آیا کرتا تھا اور ان کی غلطیوں سے درگزر کرتا تھا۔
امیر شخص اکرم کوشکار کھیلنے کا بڑا شوق تھا۔ ایک دن وہ شکار کے لئے نکلا۔ کچھ اس کے یارومددگار بھی ساتھ ہوگئے۔ اتفاق سے اکرم ان لوگوں سے بہت آگے نکل گیا اور پھر اس کے ساتھی اس سے بچھڑ گئے۔ وہ تمام دن جنگل میں گھوڑا دوڑاتا رہا۔ چلتے چلتے رات کے وقت گھنے جنگل میں اسے دور ایک روشنی نظر آئی۔ تھک جانے کی وجہ سے اس نے سوچا، ضرور یہ روشنی کسی بستی سے آرہی ہوگی، وہاں چل کر رات بسر کرنی چاہیے۔ روشنی والی جگہ اس کے پڑوسی احمد کی تھی۔
اس وقت احمد گھر پر نہیں تھا۔ گھر میں اس کی بیوی اکیلی تھی۔ امیر شخص اکرم نے دروازہ کھٹ کھٹایا تو پڑوسی کی بیوی نے دروازہ کھولا۔ امیر نے اس سے کہا:
”اماں جان! میں راستہ بھول گیا ہوں۔ دن بھر گھوڑا دوڑاتے دوڑاتے تھک کر چور ہوگیا ہوں۔ کیا آپ مہربانی کرکے مجھے اپنے ہاں رات گزارنے کی اجازت دے سکتی ہیں؟“
گھر کی مالکہ اکرم کو نہیں پہچانی۔ اس نے کہا:” اے راہ گیر! ہم غریب لوگ ہیں۔ کھانے کے لئے سبزی روٹی اور سونے کے لئے گھاس پھوس کے بستر کے سوا کچھ نہیں رکھتے۔ پھر بھی آپ جیسے راہ سے بھٹکے ہوئے مسافر کو خوش آمدید کہہ کر بہت خوش ہوں گے۔ آپ شوق سے ہمارے ہاں رات گزار سکتے ہیں۔“
اکرم نے خاتون کا شکریہ ادا کرکے اپنا گھوڑا مکان کے صحن میں ایک طرف باندھ دیا اور خود گھر میں داخل ہوا۔ خاتون اکرم کے لئے بڑی محبت سے روٹی اور سبزی تیار کرکے لائی۔ اکرم بھوک سے بہت بے چین تھا۔ اس نے یہی روکھا سوکھا کھانا بڑے شوق سے کھایا اور آرام سے سوگیا۔ صبح کو جس وقت اکرم نے جانا چاہا تو خاتون سے اپنا تعارف کرایا اور دس اشرفیاں اس کی نذر کرکے اپنا سفر پھر شروع کردیا۔
دوسرے دن جب صاحب خانہ احمد واپس آیا تو اس کی بیوی نے سارا واقعہ بیان کیا۔ اس نے کہا:” انصاف کی بات یہ ہے کہ ایک رات کی میزبانی کا معاوضہ دس اشرفیاں بہت زیادہ ہیں۔ ہمارے ہاں ایسی کوئی چیز نہیں جس کے معاوضے میں اس شخص نے ہمارے ساتھ یہ سلوک کیا ہے۔ ہم اس کی دی ہوئی یہ رقم واپس کردیں گے۔ فی الحال ہم اس کی پسند کی سبزی اور روٹی بنا کر اس کے لئے لے جاتے ہیں۔“
دوسرے دن صبح کو بڑا بھائی یہ چیزیں تیار کراکے اکرم کے پاس لے گیا اور اس سے کہا:” جناب زمین دار صاحب، آپ نے ہمارے فقیرانہ کھانے کا جو معاوضہ دس اشرفیاں دیا ہے وہ ہمارے پیش کئے ہوئے کھانے کی قیمت سے بہت زیادہ ہے۔ آپ اجازت دیں تو میں کبھی کبھی تھوڑی روٹی اور سبزی تیار کرکے آپ کے لئے لاتا رہوں۔ ممکن ہے میں اس طریقے سے آپ کی عنایت کا بدلہ چکا سکوں۔“
اکرم کو اس غریب کاشت کار کا یہ برتاو¿ اور احسان مندی کا جذبہ بہت پسند آیا۔ اس نے اپنے حاکموں کو حکم دیا کہ وہ اس شخص کو ایک بڑا کھیت اور ایک بنا بنایا ہوا خوبصورت مکان انعام کے طور پر دے دیں۔
یہ خبر کاشت کار کے چھوٹے بھائی تک پہنچی تو اس نے اپنے دل میں کہا کہ یہ شخص اگر تھوڑی سی روٹی اور سبزی کے معاوضے میں ایک کھیت اور ایک مکان دے سکتا ہے تو جب میں اپنا سفید گھوڑا اس کی نذر کروں گا تب مجھے تو ضرور وہ ایک محل دلوادے گا۔ دل میں یہ منصوبہ بنا کر چھوٹا بھائی اپنا سفید گھوڑا ساتھ لئے ہوئے اکرم کے محل پہنچا۔ اس سے ملاقات کی اور گھوڑا پیش کرتے ہوئے کہا:” جناب والا! ایک گھر اور ایک کھیت کا عطیہ(انعام) تھوڑی سبزی اور روٹی کے معاوضے میں ایک بڑا انعام ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ نے میرے بھائی کے ساتھ جس محبت کا برتاو¿ کیا ہے اس کے مقابلے میں میرے بھائی کی طرف سے جو کمی ہوئی ہے ، اس کو پورا کردوں۔ اسی خیال سے اپنا یہ گھوڑا آپ کے لئے لایا ہوں۔“
اکرم بھولا بھالا مال دار شخص نہ تھا۔ وہ بہت ہوشیار اور سمجھ دار آدمی تھا اور اپنے اس لالچی پڑوسی کو خوب جانتا تھا اور جو خیال اس موقع پر اس کے دماغ میں گھوم رہا تھا اس سے اچھی طرح واقف تھا ، اس لئے اکرم نے اسے جواب دیا:” میرے دوست تم نے بڑی محبت کا ثبوت دیا ہے۔ میں حیران ہوں کہ تمہارے اس سلوک کا بدلہ کیسے چکاو¿ں۔ تمہارے پاس اللہ کا دیا سب کچھ موجود ہے۔ تمہارا کھیت اور مکان بہت اچھا ہے۔ کسی چیز کی کمی نہیں پائی جاتی۔ میں تمہاری محبت کا معاوضہ کس طرح ادا کروں۔ میں سوچتا ہوں اس کا بدلا کوئی بہت بڑی چیز دے کر ادا کروں۔ جانتے ہو میں کیا کروں گا؟ میں یہ کروں گا کہ تمہارا بھائی میرے لئے جو تحفہ اتنی محبت اور خلوص کے ساتھ لایا ہے، وہ میری نظر میں ان تمام تحفوں سے زیادہ قیمتی ہے جو مجھے اب تک کسی سے وصول ہوئے ہیں۔ اب میں اسی تحفے کو تمہاری نذر کرتا ہوں۔“
یہ کہہ کر اکرم نے نوکروں کو حکم دیا کہ میرے باورچی خانے میں جو تحفہ میں آیا ہوا کھانا رکھا ہے، لے آئیں اور ہمارے اس پڑوسی کے حوالے کردیں۔ اس کے حکم کی تعمیل کی گئی اور وہ لالچی کاشت کار کے حوالے کردیا گیا۔
اس طرح لالچی کاشت کار اکرم کے ہاں سے ناکام واپس ہوا۔
- Home
- بچوں کا نوائے اسلام
- قیمتی تحفہ
قیمتی تحفہ
-
Ilyas - جولائی 2, 2020
- بچوں کا نوائے اسلام
- 2
- 0 minute read


































