
میاں بیوی دونوں ایک دوسرے کے دل سے غموں کے بوجھ کو ہلکا کریں۔ اگر دونوں میں سے کوئی بھی زندگی میں کسی مشکل میں گرفتار ہو اور مصیبتیں اس کے دل پر حملہ آور ہوں یا وہ کسی مسئلے میں ابہام و تردد کا شکار ہو تو یہاں میاں بیوی میں سے دونوں کو چاہیے اس حساس موقع پر اپنی شریکہ حیات یا شوہر کی مدد کے لئے جلدی کرے، اس کے دل سے غم کا بوجھ ہٹادے اور اس کی غلطی اور اشتباہ کو دور کرکے اس کی رہنمائی کرے۔ اگر وہ اس بات کا مشاہدہ کرے کہ اس کا ساتھی کسی خطا کا مرتکب ہو رہا ہے تو اسے متنبہ کرے اور اسے روکے۔
سلیقہ مند بیوی کی مدیریت کی اہمیت
خواتین کی گھریلو ذمہ داریوں کی اہمیت، بیرونی وظائف اور ذمے داریوں سے نہ تو کسی بھی صورت میں کم ہیں اور نہ ہی ان کی زحمت و سختی کا موازنہ کیا جاسکتا ہے۔ شاید ان کی گھریلو ذمے داریوں کی زحمت و سختی زیادہ ہی ہو اور وہ بھی اس لئے کہ وہ ایک گھریلو ماحول کی نگہبان ہیں جس کے لئے بہت محنت اور جدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے چونکہ خواتین گھر کے اندرونی معاملات کی مدیر (منیجر) اور وزیر داخلہ کا درجہ رکھتی ہیں۔ سلیقہ مند خاتون ہی ہے جو گھر کے ایک اہم اور حساس نوعیت کے ادارے کو چلاسکتی ہے۔ یعنی وہ جو خاندان اور گھر کے ماحول پر کڑی نگاہ رکھتی ہو اور گھر کا نظم و نسق دراصل اس کی نظارت، تدبیر اور مدیریت و مینجمنٹ سے وابستہ ہو اور یہ بہت دقت طلب، سخت اور زحمت والا کام ہے کہ جو بہت ظرافت کا محتاج ہوتا ہے۔ یہ کام صرف اور صرف خواتین کے نرم و نازک احساسات، لطیف مزاج اور ان کی محبت سے لبریز نسوانی صفات ہی کے ذریعے سے انجام پاسکتا ہے۔ کسی مرد کے لئے اس بات کا کوئی امکان نہیں ہے کہ نرم و نازک اور ظریف احساسات کا خیال رکھتے ہوئے گھر کو چلائے۔
کچھ لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ بیوی تو گھر میں بیکار بیٹھی رہتی ہے، ہر گز نہیں! ایک خاتون گھر کی چاردیواری میں بہت زیادہ، سخت ترین اور ظریف ترین کاموں کو انجام دیتی ہے۔ کچھ لوگ اس طرح سوچتے ہیں کہ اگر ایک خاتون کا کام صرف انہی گھریلو کاموں کو انجام دینا ہے تو یہ ایک عورت کی اہانت ہے نہیں! اس میں خاتون کی ہر گز کوئی تحقیر نہیں ہے۔ ایک خاتون کا سب سے اہم کام یہ ہے کہ وہ زندگی کو ہنستا مسکراتا، شادآباد اور خوش و خرم رکھے۔
بچوں کی پرورش، بہت بڑا ہنر ہے
بہت سے گھریلو کام بہت سخت ہوتے ہیں کہ جن میں سے ایک بچوں کی پرورش اور تربیت ہے۔ آپ جس کام کو بھی مد نظر رکھیں کہ جو بہت دشوار ہو لیکن وہ بچوں کی پرورش کے مقابلے میں آسان ہوگا۔ بچوں کی پرورش دراصل ایک بہت بڑا ہنر ہے۔ مرد حضرات ایک دن بھی یہ کام انجام نہیں دے سکتے لیکن خواتین بہت توجہ، سنجیدگی، ہمت و حوصلے اور ظرافت سے یہ بڑا کام انجام دیتی ہیں اور خداوند عالم نے ان کی طبیعت و مزاج میں اس بات کی صلاحیت رکھی ہے۔ لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ بچوں کی پرورش وہ سخت کام ہے جو انسان کو تھکا دیتا اور اسے خستہ حال کردیتا ہے۔
نوکری اور گھریلو زندگی کو خوشحال بنانا
وہ نوجوان جوراہ خدا میں کاموں میں مشغول ہیں وہ رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے کی وجہ سے اپنے کاموں اور فعالیت کو متوقف نہ کریں۔ ہم مرد حضرات کو ہمیشہ اس بات کی تاکید کرتے ہیں کہ وہ اپنے کام کاج، تجارت (بزنس) اور نوکری میں وقت دینے اور سر کھپانے کی وجہ سے اپنی گھریلو زندگی اور خاندانی نظام کو خراب نہ کریں۔ کیونکہ بعض مرد ایسے ہیں جو علی الصبح گھر سے نکلتے ہیں اور رات گئے گھر لوٹتے ہیں، یہ روش درست نہیں ہے۔ جن لوگوں کے لئے اس بات کا امکان ہے ہم انہیں تاکید کرتے ہیں کہ وہ دوپہر کے وقت گھر جائیں اور اپنے بیوی بچوں کے درمیان رہ کر اپنی کھوئی ہوئی توانائی بحال کریں، گھر کی گرم اور پر محبت فضا میں ان کے ساتھ کھانا کھائیں، کم و بیش ایک گھنٹہ ان کے ساتھ رہیں اور اس کے بعد اپنے کام کی طرف لوٹ آئیں۔ اس کے بعد ایک مناسب وقت یعنی اول شب میں گھر جائیں اور بچوں کے سونے سے قبل ان سے ملاقات کریں اور گھر کے تمام افراد مل کر ایک اجتماعی ملاقات تشکیل دیں۔


































