
تہران : ایران پر امریکی حملے میں میناب کے شجرہ طیبہ اسکول کے شہید بچوں کے والدین نے پوپ لیو کو خط لکھ دیا۔ متاثرہ والدین نے اپنی تکلیف کا ذکر کرتے ہوئےکہا کہ جب دھماکوں کی ہولناک آواز نے ہماری چیخوں پر دنیاکے کان بند کر دیے تھے، تب آپ کے امن پسند الفاظ کی گونج ہمارےلامتناہی زخموں کے لیے مرہم بن گئی۔ پوپ کا ہر لفظ بچوں کو بچانے اور بڑھتی ہوئی نفرت، تشدد اور معصوم جانوں کےضیاع پر دنیا کے ضمیر کو بیدار کرنے کی ایک کوشش تھا۔
خط میں مزید کہا گیا کہ ہم حق کی آواز بننے اور ہمیں یہ یاد دلانے کے لیے آپ کے شکر گزار ہیں کہ پائیدار امن اور سکون طاقت اور ہتھیاروں سے نہیں بلکہ مکالمے سے حاصل ہوتا ہے۔ خط میں غمزدہ ایرانی خاندانوں نے پوپ سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنی بصیرت اور اثر و رسوخ کو استعمال کریں تاکہ زمین پر کسی بھی والدین کو اپنے بچے کی سرد قبر پر لوری سنانے کی نوبت نہ آئے۔


































