
غزہ : حماس نے کہا ہے کہ فلسطینی عوام الحاق اور جبری بے دخلی کے تمام منصوبوں کا ڈٹ کر مقابلہ جاری رکھیں گے۔ فلسطینی اتھارٹی نے بھی اسرائیلی اقدام کو سنگین اشتعال انگیزی قرار دیا ہے۔
حماس نے اپنے بیان میں اقوام متحدہ، سلامتی کونسل اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ قابض قوت کی جارحیت اور فلسطینی عوام کے خلاف جاری خلاف ورزیوں کو رکوانے کے لیے فوری اقدامات کریں۔ ادھر فلسطینی اتھارٹی نے بھی اس فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ایک سنگین پیش رفت قرار دیا جو طے شدہ معاہدوں کو عملاً کالعدم بناتی ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کا کہنا تھا کہ یہ اقدام سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے اور خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ فلسطینی قیادت نے عالمی اداروں پر زور دیا کہ وہ اسرائیلی اقدامات کو روکنے کے لیے عملی کردار ادا کریں۔ قطر کی وزارتِ خارجہ نے اسرائیلی فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ قابض قوت پر دباؤ ڈالا جائے تاکہ اس اقدام پر عمل درآمد روکا جا سکے اور اس کے سنگین نتائج سے بچا جا سکے۔ اردن کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ مغربی کنارے کی زمین کو “ریاستی اراضی” قرار دینا بین الاقوامی اور انسانی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کو نقصان پہنچاتا ہے۔


































