Sun Oct 11, 2026

یمن کے انتقامی حملوں کا خوف: متعدد ایئرلائنز نے سعودی عرب کے لیے پروازیں معطل یا منسوخ کر دیں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ، صدر مملکت نے سمری پر دستخط کردیے ریاض ایئرپورٹ پر انصار اللہ کا حملہ، 12 افراد ہلاک، 306 زخمی، پروازیں منسوخ ٹرمپ نوبیل انعام نہ ملنے کی رسوائی پر شدید برہم، انعام کمیٹی اور ناروے پر تنقید خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کے خلاف کارروائی آبنائے ہرمز تک محدود نہیں رہے گی، پاسدارانِ انقلاب آئی سی سی نے امریکی پابندیاں مسترد کر دیں امریکا نے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کردیں امریکی حکام تہذیبی جنگ کا بیانیہ بنانے سے قبل ماضی کے واقعات کا مطالعہ کریں، محسن رضائی ٹرمپ نے ایران سے جنگ چھیڑ کر امریکا کو رسوا کیا، امریکی سینیٹر گلگت بلتستان کے وسائل پر کسی بیرونی طاقت کو اثر انداز نہیں ہونے دیں گے، مرکزی انجمن امامیہ ٹرمپ کی پھر رسوائی، امن کا نوبل انعام انسانی حقوق کی وکیل ناوی پلے کے نام آبنائے ہرمز میں ایل پی جی گیس بردار جہاز پر حملہ، آگ لگ گئی پاکستان ہر خطرے کے مقابلے میں سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا رہے گا، وزیراعظم سعودی عرب انصار اللہ کے خلاف جنگ میں ایک بار پھر ماضی کے دلدل میں داخل ہو چکا ہے، نیویارک ٹائمز طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع

روزانہ کی خبریں

اسرائیلی جیل میں 87 دن سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے فلسطینی رہنما خضر عدنان انتقال کر گئے

تل ابیب: اسرائیلی جیل میں 87 دن سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے 44 سالہ فلسطینی رہنما خضر عدنان چل بسے۔ اسرائیل کی صیہونی فوج نے خضر عدنان کو پانچ فروری کو جنین کے جنوی قصبے ارابہ سے غیرقانونی حراست میں لیا تھا۔ گرفتاری کے بعد سے ہی انہوں نے بھوک ہڑتال کردی تھی اور طبی معائنہ اور علاج سے انکار کر دیا تھا۔ خضر کو منگل کی صبح اپنے سیل میں بے ہوش پایا گیا۔ انہیں اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے ان کی موت کی تصدیق کردی۔ خضر نو بچوں کے والد ہیں اور انہیں اپنی زندگی میں پہلے بھی 12 مرتبہ گرفتار کیا گیا اور بغیر کسی الزام کے اس حراست کے خلاف انہوں نے احتجاجاً کئی بار بھوک ہڑتال کی۔ فلسطینی وزیر اعظم محمد شتیہ نے کہا ہے کہ اسرائیل نے خضر عدنان کو جان بوجھ کر قتل کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ صیہونی حکومت نے خضر کی رہائی کی درخواست کو مسترد کرکے ان کے علاج کو نظر اندازکیا۔ صحت کی سنگینی کے باوجود انہیں سیل میں بند رکھا گیا۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular