
تل ابیب: اسرائیلی جیل میں 87 دن سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے 44 سالہ فلسطینی رہنما خضر عدنان چل بسے۔ اسرائیل کی صیہونی فوج نے خضر عدنان کو پانچ فروری کو جنین کے جنوی قصبے ارابہ سے غیرقانونی حراست میں لیا تھا۔ گرفتاری کے بعد سے ہی انہوں نے بھوک ہڑتال کردی تھی اور طبی معائنہ اور علاج سے انکار کر دیا تھا۔ خضر کو منگل کی صبح اپنے سیل میں بے ہوش پایا گیا۔ انہیں اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے ان کی موت کی تصدیق کردی۔ خضر نو بچوں کے والد ہیں اور انہیں اپنی زندگی میں پہلے بھی 12 مرتبہ گرفتار کیا گیا اور بغیر کسی الزام کے اس حراست کے خلاف انہوں نے احتجاجاً کئی بار بھوک ہڑتال کی۔ فلسطینی وزیر اعظم محمد شتیہ نے کہا ہے کہ اسرائیل نے خضر عدنان کو جان بوجھ کر قتل کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ صیہونی حکومت نے خضر کی رہائی کی درخواست کو مسترد کرکے ان کے علاج کو نظر اندازکیا۔ صحت کی سنگینی کے باوجود انہیں سیل میں بند رکھا گیا۔


































