
لندن : عمران خان کی حکومت کے خاتمے سے پاک ایران تعلقات نازک موڑ پرآگئے ہیں۔ شہباز شریف نے جلد ہی ایران کا دورہ نہ کیا تو کپتان کے دور میں قائم کئے گئے اچھے تعلقات تحلیل ہوجائیں گے۔ یہ دعویٰ لندن کے مشہور عربی اخبار الشرق الاوسط کی پاک ایران تعلقات ڈھلوان کے عنوان سے شائع رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایرانی ماہرین توقع کرتے ہیں کہ نئے پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف اپنے پیشرو کی خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کے ایک حصے کے طور پر جلد ہی ایران کا دورہ کریں گے۔ کیونکہ علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر مفادات کے تصادم اور سیاسی موقف کے باوجود پاکستان جغرافیائی طور پر ایران کے لیے اہم ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان افغانستان میں طالبان کی اقتدار میں واپسی، ایران چین اسٹریٹجک معاہدے پر دستخط اور اور ایرانی قدس فورسز کے شمالی بحر ہند میں اپنی رسائی کو بڑھانے کے منصوبہ سے اختلافات نمایاں ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق عمران خان کے برسراقتدار آنے کے بعد سے پاکستان اور ایران کے درمیان سلامتی اور علاقائی پیشرفت سامنے آئی تھی۔ بلوچستان سیستان میں دہشت گرد دھڑوں کی طرف سے ایرانی گارڈز اکثر خونریز حملوں کی زد میں آتے رہتے ہیں۔ ایران نے پاکستان کے ساتھ 900 کلومیٹر طویل سرحد پر سیکیورٹی اور تجارتی معاہدوں پر دستخط کرکے صورتحال پر قابو پانے کی کوشش کی۔ دونوں ممالک نے کئی بارڈر کراسنگ کھول دیں۔ اور سیکیورٹی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے مشترکہ بازار قائم کیے ۔ جس سے خطے کے عدم استحکام کی صورتحال میں بہتری آئی۔


































