Sun Oct 11, 2026

یمن کے انتقامی حملوں کا خوف: متعدد ایئرلائنز نے سعودی عرب کے لیے پروازیں معطل یا منسوخ کر دیں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ، صدر مملکت نے سمری پر دستخط کردیے ریاض ایئرپورٹ پر انصار اللہ کا حملہ، 12 افراد ہلاک، 306 زخمی، پروازیں منسوخ ٹرمپ نوبیل انعام نہ ملنے کی رسوائی پر شدید برہم، انعام کمیٹی اور ناروے پر تنقید خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کے خلاف کارروائی آبنائے ہرمز تک محدود نہیں رہے گی، پاسدارانِ انقلاب آئی سی سی نے امریکی پابندیاں مسترد کر دیں امریکا نے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کردیں امریکی حکام تہذیبی جنگ کا بیانیہ بنانے سے قبل ماضی کے واقعات کا مطالعہ کریں، محسن رضائی ٹرمپ نے ایران سے جنگ چھیڑ کر امریکا کو رسوا کیا، امریکی سینیٹر گلگت بلتستان کے وسائل پر کسی بیرونی طاقت کو اثر انداز نہیں ہونے دیں گے، مرکزی انجمن امامیہ ٹرمپ کی پھر رسوائی، امن کا نوبل انعام انسانی حقوق کی وکیل ناوی پلے کے نام آبنائے ہرمز میں ایل پی جی گیس بردار جہاز پر حملہ، آگ لگ گئی پاکستان ہر خطرے کے مقابلے میں سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا رہے گا، وزیراعظم سعودی عرب انصار اللہ کے خلاف جنگ میں ایک بار پھر ماضی کے دلدل میں داخل ہو چکا ہے، نیویارک ٹائمز طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع

روزانہ کی خبریں

مغربی کنارے میں فلسطینیوں کو صرف 66 جبکہ آبادکاروں کو 22 ہزار تعمیراتی اجازت نامے

Israeli military bulldozers demolishing three Palestinian-owned houses in Shuqba village, west of the administrative city of Ramallah, in Israeli-occupied West Bank on January 21, 2026. The buildings fall in the so-called Area C designated by the 1995 Oslo Accords, occupied Palestinian territory which remains under full Israeli control. Under Israeli military law, Palestinians cannot build structures in the area without permits, which are typically refused, and demolitions are common. (Photo by Zain JAAFAR / AFP via Getty Images)

تل ابیب: مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے لیے تعمیراتی اجازت ناموں میں شدید امتیاز بے نقاب ہو گیا۔ اسرائیلی حکام نے گیارہ سال میں فلسطینیوں کو صرف چھیاسٹھ جبکہ غیرقانونی صیہونی آبادکاروں کو بائیس ہزار تعمیراتی اجازت نامے جاری کئے ہیں۔ اسرائیلی اخبار ہارٹز کے مطابق مغربی کنارے کے بیشتر علاقے فلسطینی ترقی کے لیے بند ہیں، جس کے باعث مقامی آبادی بغیر اجازت تعمیرات پر مجبور ہے۔ اجازت ناموں کی عدم دستیابی کے باعث گزشتہ دو برسوں میں فلسطینیوں کی کم از کم دو ہزار چار سو اکسٹھ عمارتیں مسمار کی گئیں۔ جبکہ اس سے پہلے نو برسوں میں چار ہزار نو سو چوراسی تعمیراتی ڈھانچے گرائے گئے تھے۔ انہی دو برسوں کے دوران غیرقانونی صیہونی آبادکاروں کے کھیتوں اور چوکیوں کی تیز رفتار توسیع کے باعث تقریباً 80 فلسطینی برادریاں بے دخل ہوئیں۔ رپورٹ میں شمالی مغربی کنارے میں نابلس کے جنوب میں تعاون محلے میں کی جانے والی حالیہ مسماریوں کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، جس سے رہائشی بحران مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular