
Israeli military bulldozers demolishing three Palestinian-owned houses in Shuqba village, west of the administrative city of Ramallah, in Israeli-occupied West Bank on January 21, 2026. The buildings fall in the so-called Area C designated by the 1995 Oslo Accords, occupied Palestinian territory which remains under full Israeli control. Under Israeli military law, Palestinians cannot build structures in the area without permits, which are typically refused, and demolitions are common. (Photo by Zain JAAFAR / AFP via Getty Images)
تل ابیب: مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے لیے تعمیراتی اجازت ناموں میں شدید امتیاز بے نقاب ہو گیا۔ اسرائیلی حکام نے گیارہ سال میں فلسطینیوں کو صرف چھیاسٹھ جبکہ غیرقانونی صیہونی آبادکاروں کو بائیس ہزار تعمیراتی اجازت نامے جاری کئے ہیں۔ اسرائیلی اخبار ہارٹز کے مطابق مغربی کنارے کے بیشتر علاقے فلسطینی ترقی کے لیے بند ہیں، جس کے باعث مقامی آبادی بغیر اجازت تعمیرات پر مجبور ہے۔ اجازت ناموں کی عدم دستیابی کے باعث گزشتہ دو برسوں میں فلسطینیوں کی کم از کم دو ہزار چار سو اکسٹھ عمارتیں مسمار کی گئیں۔ جبکہ اس سے پہلے نو برسوں میں چار ہزار نو سو چوراسی تعمیراتی ڈھانچے گرائے گئے تھے۔ انہی دو برسوں کے دوران غیرقانونی صیہونی آبادکاروں کے کھیتوں اور چوکیوں کی تیز رفتار توسیع کے باعث تقریباً 80 فلسطینی برادریاں بے دخل ہوئیں۔ رپورٹ میں شمالی مغربی کنارے میں نابلس کے جنوب میں تعاون محلے میں کی جانے والی حالیہ مسماریوں کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، جس سے رہائشی بحران مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔


































