
واشنگٹن : ٹرمپ انتظامیہ نے بورڈ آف پیس میں مستقل رکنیت کے خواہشمند ممالک کے لیے ایک ارب ڈالر کی فنڈنگ کی شرط عائد کر دی۔ بلوم برگ نے بورڈ آف پیس کے مسودۂ چارٹر کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ ہر رکن ملک کی مدت تین سال ہوگی، جس کی تجدید چیئرمین کی منظوری سے مشروط ہوگی۔ تاہم جو ممالک چارٹر کے نفاذ کے پہلے سال میں ایک ارب ڈالر سے زائد نقد فنڈز فراہم کریں گے، ان پر تین سالہ مدت کا اطلاق نہیں ہوگا۔ یہ بورڈ غزہ کی تعمیرِ نو اور حماس کے غیر مسلح کیے جانے کی نگرانی کا ذمہ دار ہوگا۔ رپورٹ کے مطابق بورڈ کے فیصلے اکثریتی ووٹ سے ہوں گے، لیکن حتمی منظوری چیئرمین کی ہوگی۔
ادھر اسرائیلی حکومت نے غزہ کیلئے بورڈ آف پیس کی تشکیل کو مسترد کرتے ہوئے اسے اسرائیلی پالیسی کے منافی قرار دے دیا۔ اسرائیلی وزیرِ قومی سلامتی اتمار بن گویر نے کہا ہے کہ غزہ کو کسی انتظامی کمیٹی کی نہیں بلکہ مکمل فوجی کارروائی کی ضرورت ہے۔ حماس کے جنگجوؤں کو ختم کیا جانا چاہیے جبکہ بڑے پیمانے پر رضاکارانہ ہجرت بھی ہونی چاہیے۔ وزیر خزانہ بیزالیل اسموٹریچ نے کہا ہے کہ جو ریاستیں حماس کی حمایت کرتی رہی ہیں اور آج بھی اسے پناہ دے رہی ہیں، انہیں غزہ میں کوئی کردار نہیں ملنا چاہیے۔


































