
سعودی عرب کا ایرانی مندوبین کو او آئی سی اجلا س کیلئے ویزے دینے سے انکار،سعودی عرب تنظیم کا ہیڈکوارٹر ہونے کا ناجائز فائدہ اٹھارہاہے،ایران کی برہمی
فلسطین میں امن اور سلامتی فلسطینیوں سمیت تمام فریقوں کی منظوری کے بغیر ممکن نہیں،او آئی سی کا اعلامیہ،ٹرمپ کا یکطرفہ امن منصوبہ مسترد کردیا
تہران جدہ (نیوز ڈیسک) سعودی عرب نے ایران کو اسلامی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت سے رو ک کردیا جبکہ او آئی سی نے ٹرمپ کا امن منصوبہ مسترد کردیا ہے،جدہ میں او آئی سی کے اجلاس میں شرکت کیلئے ایران کو باضابطہ دعوت دی گئی تھی لیکن سعودی عرب نے امریکی دباؤ پر ایرانی مندوبین کو ویزے جاری نہیں کئے جس کی وجہ سے وہ اجلاس میں شرکت نہیں کرسکے،ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان عباس موسوی نے کہا ہے کہ سعودی عرب تنظیم کا ہیڈکوارٹر ہونے اور میزبان ملک ہونے کے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھارہاہے،ایران نے او آئی سی میں شکایت درج کرادی، ادھر او آئی سی نے جدہ میں اپنے ہنگامی اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا پیش کردہ مشرقِ وسطہ امن منصوبہ مسترد کردیا اور کہا ہے کہ فلسطین میں امن اور سلامتی فلسطینیوں سمیت تمام فریقوں کی منظوری کے بغیر ممکن نہیں،اجلاس میں صدر ٹرمپ کے پیش کردہ منصوبے کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا، اجلاس میں پڑھے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا کے اعلان کردہ منصوبہ کو منصفانہ اور فریقین کے اطمینان کے مطابق ہونا چاہیے تھا،بیان میں اس یک طرفہ منصوبے کو مسترد کردیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ فلسطینیوں کے مطالبات واْمنگوں کو پورا نہیں کرتا ہے، اوآئی سی فلسطینی عوام اور ان کی حکومت کے ساتھ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام،ان کی امداد اور آبرومندانہ زندگی گزارنے کے قابل بنانے کے لیے کھڑی ہے بیان میں او آئی سی کے سیکریٹری جنرل پر زوردیا گیا ہے کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کریں اور ایسی کسی بھی قرارداد کو یکسر مسترد کردیں جس میں فلسطینی کاز کا کوئی مفاد پنہاں نہ ہو۔


































