
کابل: افغان طالبان نے خبردار کیا ہے کہ دوحہ اجلاس میں ان کی شرکت کے بغیر افغانستان میں مسائل کا حل مشکل ہوگا۔ طالبان ترجمان سہیل شاہین نے دوحہ اجلاس میں افغان نمائندوں کو نہ بلانے کو بلاجواز اور امتیازی سلوک قرار دیا اور کہاکہ افغان وفد کو مدعو کیا جانا چاہیے تاکہ مسائل کا حقیقی حل تلاش کیا جا سکے۔ امارات اسلامیہ بنیادی فریق ہے اس کے نمائندوں کے بغیر کوئی بھی اجلاس غیر موثر ہے اور بعض اوقات خلاف منشا بھی ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کی امارات اسلامیہ کا قانونی حق ہے کہ اسے ایسے اجلاسوں میں اپنی پوزیشن واضح کرنے کا موقع دیا جائے۔ ایسے اجلاس میں کیے گئے فیصلے کیسے قابل قبول یا نافذ ہوسکتے ہیں جبکہ وہ اس عمل کا حصہ ہی نہیں۔ ہماری غیر موجودگی معاملے کو حل کرنے کے بجائے دونوں فریقوں کے درمیان خلیج پیدا کرے گی۔


































