
راولپنڈی : پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کے اعلامیے میں سازش کا لفظ نہیں ہے، قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیے میں لکھا ہوا ہے کہ غیر سفارتی زبان استعمال کی گئی ہے۔ ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ اعلامیے میں یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ جو بات چیت ہوئی وہ مداخلت کے مترادف ہے اور اس پر ڈی مارش دیا جاتا ہے ، ڈیمارش صرف سازش پر نہیں دیے جاتے اور بھی وجوہات ہوتی ہیں ، کیوں کہ یہ ایک سفارتی طریقہ کار ہے۔
ہماری خفیہ ایجنسیاں تمام خطرات کے خلاف چوکنا ہیں اور خفیہ ایجنسیوں سمیت تمام ادارے بھرپور طریقے سے کام کررہے ہیں، خود دیکھ لیں کہ قومی سلامتی کے اعلامیے میں سازش کا لفظ نہیں ہے۔ ہم پاکستان کے خلاف کسی بھی قسم کی سازش کو کامیاب ہونے نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا نے پاکستان سے فوجی اڈے نہیں مانگے اگر امریکا مطالبہ کرتا تو عمران خان کی طرح فوج کا بھی وہی موقف ایبسولوٹلی ناٹ ہوتا ۔ بابر افتخار نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کا مطالبہ تھا کہ پاک فوج کا سیاست میں عمل دخل نہیں ہونا چاہیے اور اس بات کو عملی جامہ پہنایا گیا ہے، پاک فوج کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں ہے پاک فوج اپنا آئینی اور قانونی کردار ادا کرتی ہے اور کرتی رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ فوج کو سیاست میں مت گھسیٹیں، نہ یہ مہم پہلے کامیاب ہوئی نہ اب ہوگی۔ افواہوں کی بنیاد پر بے بنیاد کردار کشی کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں، یہ ملک کے مفاد کے سراسر خلاف ہے۔ پاکستان کی بقا صرف اور صرف جمہوریت میں ہے۔ ملک میں کبھی مارشل لا نہیں آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ آرمی چیف جنرل باجوہ نے اپنی مدت ملازمت میں توسیع مانگی ہے اور نہ ہی لیں گے وہ نومبر میں ریٹائرڈ ہوجائیں گے۔


































