Sun Oct 11, 2026

آئی سی سی نے امریکی پابندیاں مسترد کر دیں امریکا نے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کردیں امریکی حکام تہذیبی جنگ کا بیانیہ بنانے سے قبل ماضی کے واقعات کا مطالعہ کریں، محسن رضائی ٹرمپ نے ایران سے جنگ چھیڑ کر امریکا کو رسوا کیا، امریکی سینیٹر گلگت بلتستان کے وسائل پر کسی بیرونی طاقت کو اثر انداز نہیں ہونے دیں گے، مرکزی انجمن امامیہ ٹرمپ کی پھر رسوائی، امن کا نوبل انعام انسانی حقوق کی وکیل ناوی پلے کے نام آبنائے ہرمز میں ایل پی جی گیس بردار جہاز پر حملہ، آگ لگ گئی پاکستان ہر خطرے کے مقابلے میں سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا رہے گا، وزیراعظم سعودی عرب انصار اللہ کے خلاف جنگ میں ایک بار پھر ماضی کے دلدل میں داخل ہو چکا ہے، نیویارک ٹائمز طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع مکہ معاہدہ ، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج آبنائے ہرمز میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کا حق نہیں، جنرل احمد وحیدی حالیہ جنگوں میں فورسز کا امن و امان قائم رکھنے میں کردار بے مثال رہا، ولی امر مسلمین ترکیہ کا فوجی دستے سعودیہ بھیجنے سے انکار، مکہ معاہدہ پارلیمنٹ میں لایا جائیگا، وزیرخارجہ انصار اللہ کے حملے میں سعودی طیارہ تباہ

روزانہ کی خبریں

نوبل انعام کے مجرم شکاری

Oplus_16777216

ترتیب و تنظیم: علی واحدی

وائٹ ہاؤس کے عشائیے میں بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ اپنی حالیہ ملاقات میں، ڈونلڈ ٹرمپ نے 1945ء میں ہیروشیما اور ناگاساکی پر امریکی بمباری کو جنگوں کے خاتمے میں "کامیابی” کی ایک مثال کے طور پر پیش کیا۔ اس نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کو ہیری ٹرومین کے فیصلے سے تشبیہ دی، جس میں ایران کو جوہری ہتھیاروں سے متعلق واضح طور پر دھمکی دی گئی اور اس پر حملہ کیا گیا۔ ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اگر ایرانی "امریکہ مردہ باد” کے نعرے لگانا چھوڑ دیں تو انہیں شام کی طرح "دوبارہ تعمیر” کا موقع مل سکتا ہے، لیکن اس نے جس تعمیر نو کا تصور پیش کیا، وہ اسرائیل کے ذریعے شام کے بنیادی ڈھانچے کی تباہی میں دیکھا جا سکتا ہے۔

ٹرمپ کے الفاظ امریکی جارحانہ پالیسیوں کا اصل چہرہ عیاں کر رہے ہیں، جو ماضی کے جرائم کو جواز بنا کر موجودہ دشمنانہ اقدامات کو قانونی حیثیت دینے کی کوشش ہے۔ وہ جو 12 روزہ جنگ میں دو ماہ کے بچے ریان قاسمیان کی شہادت سمیت کئی خونریزیوں کا ذمہ دار ہے، میزائل اور ایٹمی مسائل کا بہانہ بنانے کے بعد اب اس نے دھمکی کو جاری رکھنے کے لیے ’’مرگ بر امریکہ‘‘ کے نعرے کو بہانہ بنایا ہے، جبکہ اس نعرے کی جڑیں برسوں کے جبر و استبداد سے لے کر بچوں کے حالیہ قتل سے جڑی ہوئی ہیں۔

ماضی کے جرائم کا جواز
ٹرمپ نے اپنی تقریر میں ہیروشیما اور ناگاساکی کے ایٹم بم حملوں کو "جنگ کے خاتمے” کا ایک عنصر قرار دیا اور ایران پر حملے کا اس سے موازنہ کیا، گویا اس طرح کی کارروائی مزید جنگوں کو روک سکتی ہے۔ یہ بیانات ایران کے خلاف جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے امکان کے بارے میں واضح انتباہ ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ ٹرمپ امن مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے نہیں بلکہ طاقت اور تشدد کا راستہ اپنانا چاہتا ہے۔ ایران کے خلاف جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی واضح دھمکی کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے۔ کئی دہائیوں سے امریکی حکام فوجی آپشن کے بارے میں بات کر رہے ہیں، لیکن ٹرمپ کی جانب سے ماضی کے جرائم کا جواز پیش کرنے اور انہیں موجودہ پالیسیوں سے جوڑنے میں بے تکلفی اس خطرے کو مزید خطرناک بنا دیتی ہے۔ جاپان پر ایٹمی حملہ، جس میں لاکھوں شہری مارے گئے، تاریخ کے سب سے گھناؤنے جرائم میں سے ایک ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے اس تباہی کی تکرار متاثرین کی توہین اور دنیا کے لیے انتباہ ہے کہ مغربی طاقتیں ایک بار پھر اپنا تسلط مسلط کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا سہارا لے سکتی ہیں۔

ٹرمپ اور نیتن یاہو کی ملی بھگت
ٹرمپ کے ساتھ نیتن یاہو کی موجودگی اور نیتن یاہو کی طرف سے ٹرمپ کو امن کا نوبل انعام دینے کی درخواست دونوں کے درمیان ایران کے خلاف دشمنی میں گہری ہم آہنگی کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ درخواست ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے، جب خود صیہونی حکومت پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، فلسطینی زمینوں پر قبضے اور پڑوسی ممالک پر فوجی حملوں کے الزامات ہیں۔ دوسری طرف، ٹرمپ نے "زیادہ سے زیادہ دباؤ” اور فوجی حملوں کی حمایت کی اپنی پالیسی سے خطے کو مزید کشیدگی کی طرف دھکیل دیا ہے۔ 12 روزہ جنگ، جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 1,100 ایرانیوں کی شہادت ہوئی، اس کی حکومت کی براہ راست حمایت سے شروع کی گئی۔ اس جنگ میں شہید ہونے والا دو ماہ کا بچہ ریان قاسمیان امریکہ کے حمایت یافتہ جرائم کے خلاف ایرانی عوام کے قربانی کی علامت ہے۔ ان کے علاوہ سینکڑوں دوسرے بچے اور شہری ان پالیسیوں کا شکار ہوئے۔

خود کو امن پسند ہونے کا دعویٰ کرنے والا ٹرمپ درحقیقت ہزاروں ایرانیوں کے مصائب اور موت کا ذمہ دار ہے۔ "مرگ بر امریکہ” کا نعرہ ایران کے خلاف کئی دہائیوں کی امریکی مداخلت اور جرائم کا ردعمل ہے۔ مصدق کے خلاف بغاوت اور پہلوی حکومت کی حمایت اور عوام کو دبانے تک نیز مسلط کردہ جنگ میں صدام کی مدد کرنے سے لے کر 2019ء میں جنرل سلیمانی کے قتل تک، امریکہ نے بارہا اپنی دشمنی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ایرانی مسافر طیارے پر حملہ اور ہزاروں مریضوں کی جان لینے والی پابندیاں ان جرائم میں سے چند ہیں۔ لہذا یہ نعرہ تشدد کی دعوت نہیں بلکہ ظلم کے خلاف ایرانی عوام کے غصے اور مزاحمت کا اظہار ہے۔ ٹرمپ کے بیانات جس میں ایرانیوں کو اس نعرے کو ترک کرنے کا کہا گیا ہے، وہ اس احتجاج کی جڑوں کو چھپانے کی کوشش ہے۔ جنرل سلیمانی سے لے کر ریان قاسمیان تک جن لوگوں نے اپنے پیاروں کی شہادت دیکھی ہے، وہ اس نعرے کو جبر کے خلاف فطری ردعمل کے طور پر دیکھتے ہیں۔

امن یا غلبہ
ٹرمپ اور ان کے حامی امن کو تسلط کے برابر قرار دیتے ہیں۔ جاپان پر ایٹم بم حملے (جس کی ٹرمپ کرتا ہے،) نے جاپان کو امریکہ پر انحصار کرنے والے ملک میں تبدیل کر دیا۔ "امن” کا یہ نمونہ جو تسلیم کے ساتھ آتا ہے، وہی ہے جو ایران کے لیے سوچا گیا ہے۔ لیکن ایران، جس نے برسوں سے غیر ملکی دباؤ کا مقابلہ کیا ہے، آزادی اور انصاف میں امن کا خواہاں ہے۔ "مرگ بر امریکہ” کا نعرہ وقار کو برقرار رکھنے اور تسلط کے خلاف مزاحمت کا نعرہ ہے۔ ٹرمپ کے حالیہ بیانات نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ ایران کے حوالے سے امریکہ کی پالیسی طاقت اور جبر پر مبنی ہے اور امن کی آڑ میں چھپی ہوئی ہے۔ یہ وہ چیز ہے، جسے ایران فطری طور پر قبول نہیں کرے گا، یہ مسلط کردہ امن کو قبول نہ کرنے کی تشریح ہے، جس کے بارے میں رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے اظہار کیا ہے۔ بہرحال یہ تمام صورتحال ایران کی دفاعی اور سفارتی صلاحیتوں کو پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط کرنے کی ضرورت کو واضح کر رہی ہے۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular