
تہران : ولی امر مسلمین آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ کوئی بھی قوم، جدوجہد اور مشکلات کو برداشت کیے بغیر عروج پر نہیں پہنچ سکتی، لہذا ایرانی قوم، شہداء کے پیغام کو سن کر اپنے اتحاد، تحریک اور کوشش میں اضافہ کرے۔ انہوں نے انسانی حقوق کے نام نہاد دعویداروں کی حقیقت بیان کرتے ہوئے انہیں ایرانی عوام کے خلاف صدام کے وحشیانہ جرائم میں برابر کا شریک قرار دیا ہے۔ ولی امر مسلمین نے صوبہ ایلام کے 3ہزار شہیدوں کی یاد میں منعقدہ سیمینار کے منتظمین سے ملاقات کی۔ 23 فروری 1986کو ایلام میں فٹبال میچ کے دوران صدام حکومت کی وحشیانہ بمباری میں متعدد کھلاڑی اور تماشائی شہید ہوگئے تھے۔ولی امر مسلمین نے اس واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق کے دعویدار وہی ہیں جنہوں نے ایرانی عوام کے خلاف عراق کے ڈکٹیٹر صدام کے وحشیانہ جرائم میں اس کا بھرپور ساتھ دیا تھا۔صدام نے انسانیت کے خلاف یہ جرائم انسانی حقوق کے نام نہاد عالمی دعویداروں کی حمایت سے انجام دیئے تھے۔ مصنفوں اور فنکاروں پر فرض ہے کہ وہ اس سچائی کے بیان کو عالمی سطح پر متعارف کروائیں اور انسانی حقوق کے جھوٹے دعویداروں کو بے نقاب کریں۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ ایلام کے تین ہزار شہداء کی کانگریس کے عہدیداروں سے ملاقات میں ولی امر مسلمین نے کہا کہ صوبہ ایلام، مقدس دفاع کے دوران، ایک مضبوط قلعہ کی طرح تھا اور اگرچہ دشمن نے ان کے بعض علاقوں پر قبضہ کیا لیکن وہ پہاڑ کی طرح کھڑا رہا۔ جنگ کا دباؤ ان لوگوں کی صلاحیتوں کو ابھرنے سے نہیں روک سکتا اور ان بمباریوں کی زد میں شہید رضایی نژاد جیسےباصلاحیت نوجوان کی تربیت ہوئی اور جب دشمن نے انہیں ملک کی ترقی اور سربلندی کا ذریعہ سمجھا تو اس کی بیوی اور جوان بیٹی کے سامنے انہیں شہید کردیا۔شہداء کے پیغام سے قوم کے اتحاد اور کوششوں سمیت ذمہ داروں میں احساس ذمہ داری میں اضافہ ہونا ہوگا۔ آیت اللہ خامنہ ای نے شہید اور شہادت کے مسئلے کو دنیا کی روایتی جنگوں کے متاثرین سے مختلف قرار دیا اور کہاکہ اللہ رب العزت کی راہ میں قربانیاں دینے والے اور لڑنے والے، جغرافیائی سرحدوں کے قیمتی دفاع کے علاوہ، اہم روحانی سرحدیں یعنی اعتقاد، اخلاقیات، مذہب، ثقافت اور شناخت کی سرحدیں کا دفاع بھی کرتے ہیں اور رب کے ساتھ اپنے عہد کو خلوص سے نبھا کر، وہ اللہ کے ساتھ اپنی زندگی کا سودا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اخلاص، توکل، جھکاؤپن، حدود الہی کی پابندی، قیدیوں کے ساتھ حسن سلوک اور عمومی طور پر اسلامی طرز زندگی جیسی اہم صفات ہمارے جد و جہد کرنے والوں اور شہیدوں کے طرز عمل میں نمایاں ہیں، ان روشن اور متاثر کن نکات کو فن پاروں کے ساتھ دنیا کے لوگوں کی نظروں کے سامنے رکھا جائے۔ شہدا سے خراج عقیدت پیش کرنے کا مقصد ان کے پیغام کو سننا ہے اور شہداء کا پیغام یہ ہے کہ خدا کی راہ میں کوئی خوف اور غم نہیں ہے اور ہمیں فتنوں اور دشمنوں کی سازشوں سے ڈرے بغیر طاقت اور ثابت قدمی کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔


































