
نیویارک : اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ ہفتوں کی تباہی اورمشکلات کے بعد یہ واضح ہو چکا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے جاری تنازع کا کوئی فوجی حل ممکن نہیں۔ اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسلام آباد میں پاکستان کی میزبانی میں امریکا اور ایران کے مذاکرات میں اگرچہ کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا، تاہم یہ بات چیت دونوں فریقین کی سنجیدگی کو ظاہر کرتی ہے اور مکالمے کی بحالی کی جانب ایک مثبت اور بامعنی قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ اختلافات کی گہرائی کے پیش نظر کسی معاہدے تک فوری پہنچنا ممکن نہیں، اس لیے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے تعمیری انداز میں مذاکرات جاری رکھنے پر زور دیا ہے۔ اسٹیفن دوجارک نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جنگ بندی کو مکمل طور پر برقرار رکھا جائے اور تمام خلاف ورزیاں فوری بند ہونی چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنازع کے تمام فریقین بین الاقوامی قوانین کے مطابق آبنائے ہرمز سمیت بحری گزرگاہوں میں جہاز رانی کی آزادی کا احترام کریں۔


































