Sat Oct 10, 2026

آئی سی سی نے امریکی پابندیاں مسترد کر دیں امریکا نے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کردیں امریکی حکام تہذیبی جنگ کا بیانیہ بنانے سے قبل ماضی کے واقعات کا مطالعہ کریں، محسن رضائی ٹرمپ نے ایران سے جنگ چھیڑ کر امریکا کو رسوا کیا، امریکی سینیٹر گلگت بلتستان کے وسائل پر کسی بیرونی طاقت کو اثر انداز نہیں ہونے دیں گے، مرکزی انجمن امامیہ ٹرمپ کی پھر رسوائی، امن کا نوبل انعام انسانی حقوق کی وکیل ناوی پلے کے نام آبنائے ہرمز میں ایل پی جی گیس بردار جہاز پر حملہ، آگ لگ گئی پاکستان ہر خطرے کے مقابلے میں سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا رہے گا، وزیراعظم سعودی عرب انصار اللہ کے خلاف جنگ میں ایک بار پھر ماضی کے دلدل میں داخل ہو چکا ہے، نیویارک ٹائمز طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع مکہ معاہدہ ، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج آبنائے ہرمز میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کا حق نہیں، جنرل احمد وحیدی حالیہ جنگوں میں فورسز کا امن و امان قائم رکھنے میں کردار بے مثال رہا، ولی امر مسلمین ترکیہ کا فوجی دستے سعودیہ بھیجنے سے انکار، مکہ معاہدہ پارلیمنٹ میں لایا جائیگا، وزیرخارجہ انصار اللہ کے حملے میں سعودی طیارہ تباہ

روزانہ کی خبریں

ٹرمپ کے حکم پر یمن پر نئے حملے، چند اہم نکات

Oplus_16908288

تحریر: مہدی جہان تیغی

ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یمن پر فوجی کارروائیوں کا حکم، ان کے پروپیگنڈے اور نفسیاتی کارروائیوں سے شروع ہوا، جو حقیقت میں امریکہ کی نئی حکومت کے خارجہ پالیسی کے نقشے اور اہداف کو واضح کر رہا ہے۔

اس سلسلے میں کچھ اہم نکات
1۔ یمن پر امریکی فوجی حملے پہلی بار نہیں ہو رہے۔ جو بائیڈن کے دور میں بھی یمن کی قومی حکومت کی پوزیشن پر بڑے پیمانے پر فوجی حملے کیے گئے، جو بحیرہ احمر اور اسرائیل کے خلاف یمن کے آپریشنل فیصلوں اور عمل پر اثر انداز ہونے میں ناکام رہے۔

2۔ ٹرمپ کے دور میں پینٹاگون نے یمن پر نئے حملے شروع کیے ہیں، لیکن اس بار اس میں علاقائی اور یورپی اتحادیوں کی شراکت کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ اگرچہ جو بائیڈن کے دور میں بھی یمن کے خلاف بین الاقوامی فوجی اتحاد تیزی سے بکھر گیا تھا، لیکن ٹرمپ کے بین الاقوامی رویئے کی وجہ سے امریکی حکومت کو فوجی اتحاد بنانے میں پہلے سے کہیں زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک بین الاقوامی اور سکیورٹی چیلنج ہے، جس کا براہ راست اثر امریکہ کی خارجہ پالیسی کی صلاحیتوں پر پڑتا ہے۔

3۔ بحیرہ احمر میں بحری جہازوں کی بندش کے امریکی معیشت پر براہ راست اثرات مرتب ہونگے، اس کے علاوہ، اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ٹرمپ نے صیہونی حکومت کی حمایت میں یمن پر حملے کا حکم دیا، تاکہ یمن اور اسرائیل کے مابین فوجی توازن کو ختم کیا جا سکے۔ اس کا یہ مطلب ہے کہ صیہونی حکومت خود بھی اس آپریشن میں شامل نہیں ہے۔ اسرائیل یمن کے میزائلوں کا ذائقہ دوبارہ نہیں چکھنا چاہتا، لیکن اسٹریٹجک طور پر یمن پر نئے فوجی حملے اس مساوات کا حصہ ہیں، جس میں کہا گیا ہے کہ امریکہ نے ایک ایسی صورتحال کا سامنا کیا ہے، جس میں اسرائیل کے پاس مزاحمت کے بلاک کے اس حصے کے ساتھ نئی جنگ لڑنے کے لئے حالات یا صلاحیت نہیں ہے۔

4۔ ٹرمپ کی اسٹریٹجک غلطی یہ ہوگی کہ وہ غزہ اور جنوبی لبنان میں صیہونیوں کی فوجی پالیسی کی غلطیوں کی پیروی کرے۔ یمن میں مزاحمت کے رہنماؤں کو بمباری اور معاشی اور عسکری بنیادی ڈھانچے پر حملوں کے ذریعے ختم کرنے کی کوششیں اگرچہ مختصر مدت میں پروپیگنڈے کے لحاظ سے اہمیت کی حامل ہوں، لیکن یہ اسٹریٹجی دیرپا نہیں ہوسکتی۔ مزاحمت و مقاومت کے نظریئے اور اس کی نظریاتی بنیادوں نے حالیہ مہینوں میں یہ ظاہر کیا ہے کہ اس قسم کے اقدامات سے یہ قیام پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اور جڑ پکڑتا ہے۔

دوسری طرف، ٹرمپ کو زلنسکی اور یوکرین کے بعد اپنے منفی ہتھکنڈوں کا کھیل جاری رکھنے کے لیے یورپ جیسے کمزور حلقوں یا اپنے پڑوسیوں کی طرف رجوع کرنا چاہیئے تھا، نہ کہ یمن جیسی مزاحمتی قوم پر زور آزمائی کرنا چاہیئے تھی، جو جنگ کی آگ میں کندن بن چکی ہے۔ یمن کی انقلابی حکومت امریکہ کے بین الاقوامی نظام میں بڑے پیمانے پر رکاوٹ پیدا کرسکتی ہے اور ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کی ٹیم کے مستقبل کے اہداف اور ٹائم لائنز کو بڑے پیمانے پر تاخیر اور اسٹریٹجک مشکلات سے دوچار کرسکتی ہے۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular