
تل ابیب: اسرائیل کے قومی سلامتی کے سابق وزیر اتمار بین گویر نے اعتراف کیاہے کہ نیتن یاہو کی پالیسیوں نے اسرائیل کو مشرق وسطیٰ میں ہنسی کا سامان بنادیا ہے۔ اسرائیلی ریڈیو اسٹیشن کول باراما کے ساتھ انٹرویو میں اتمار بین گویر نے غزہ میں جنگ سے نمٹنے کی حکومتی حکمت عملی کی مذمت کی اور کہاکہ ہم مشرق وسطیٰ میں مذاق بنے ہوئے ہیں اور ہمیں اس بات کا ادراک بھی نہیں ہے۔ بن گوئر نے کہاکہ وہ حکومت میں واحد شخص ہیں جس نے غزہ کو انسانی امداد فراہم کرنے کی مخالفت کی۔ انہوں نے امریکی دباؤ پر نیتن یاہو کے ردعمل پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ آپ صرف بیرونی دباؤ کی بنیاد پر حکومت نہیں کر سکتے۔ ایندھن اور انسانی امداد کو غزہ میں جانے کی اجازت نہیں دینی چاہیے تھی۔ انہوں نےکہ کہا اس سے حماس کو فائدہ ہوتا ہے۔ سابق وزیر نے غزہ میں فلسطینیوں کے لیے رضاکارانہ ہجرت پروگرام کے فوری نفاذ کا مطالبہ کیا۔


































