
تل ابیب : صیہونی وزیراعظم نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ اُن کی حکومت مشرقِ وسطیٰ کا چہرہ بدلنے کی کوشش کر رہی ہے اور ہم نے یہ تبدیلی حاصل کر لی ہے۔ پارلیمنٹ سے خطاب میں نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل کے قیام کے بعد سے اب تک اتنی بڑی کامیابیاں کبھی حاصل نہیں ہوئیں جتنی حالیہ دنوں میں مختلف محاذوں پر حاصل کی گئی ہیں۔ ان کا اشارہ لبنان، شام، غزہ اور یمن کی جانب تھا۔ نیتن یاہو نے دعویٰ کیاکہ اسرائیلی فوج نے غزہ میں حماس کے نئے لیڈر محمد السنوار کو ختم کر دیا ہے۔ حماس پر عسکری دباؤ کی بدولت 197 یرغمالیوں کو واپس لایا گیا۔ نیتن یاھو نے مزید کہا کہ ان کی پالیسی نے اسرائیل کے علاقائی طاقت کے کردار کو مضبوط کیا ہے۔ ان کی حکومت نے شمالی اسرائیل کے قصبوں کو حزب اللہ کے خطرے سے بچا لیا ہے اور لبنان میں نئے زمینی حقائق قائم کر دیے ہیں۔ نیتن یاہو نے زور دے کر کہا کہ حماس پر مکمل فتح اور یرغمالیوں کی رہائی ہی ہمارا اصل مقصد ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ابھی بھی 20 اسرائیلی یرغمالی زندہ ہیں، جبکہ 28 کی موت واقع ہو چکی ہے۔


































