
تحریر: احمد الدلمی، یمنی سفارتکار
یمن کی طرف سے متعدد میزائل داغنے اور تجارتی بحری جہازوں پر کئی ڈرون مار گرانے کے بعد بھی امریکہ نے یمن کی انصار اللہ کے خلاف کسی طرح کی فوجی کارروائی سے گریز کیا ہے۔ شاید امریکہ کی جانب سے ردعمل ظاہر نہ کرنے کی سب سے اہم وجہ انصار اللہ کے بارے میں واشنگٹن کا نقطہ نظر ہے۔ دوسری جانب انصار اللہ کی طرف سے ان بحری جہازوں کے خلاف بڑے پیمانے پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے، جن کا تعلق کسی نہ کسی طرح صیہونی حکومت سے بنتا ہے۔ امریکی حکام کا خیال ہے کہ انصار اللہ نے براہ راست امریکی جہازوں یا افواج کو نشانہ نہیں بنایا اور یہ مسئلہ ہمیں امریکی موقف کی نوعیت کو بہتر طور پر سمجھنے کی طرف لے جاتا ہے، جسے امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے اٹھایا تھا۔
انہوں نے واضح طور پر کہا کہ واشنگٹن اپنی منصوبہ بندی میں تنہاء کام نہیں کرتا اور اس کے بجائے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ دوسروں، یعنی اپنے اتحادیوں اور دوستوں کے ساتھ مشاورت سے اپنی پسند کے وقت اور جگہ پر مناسب اقدامات کرے گا۔علاقائی اور بین الاقوامی پیشرفت کے حوالے سے بحیرہ احمر کی سلامتی کو برقرار رکھنے میں انصار اللہ کی نقل و حرکت کی عسکری اور سکیورٹی اہمیت واضح طور پر عیاں ہے۔ اسی دوران سلیوان نے انصار اللہ کے حملوں کا ذمہ دار ایران کو ٹھہرایا اور تہران پر الزام عائد کیا کہ ایران ہی انصار اللہ ہے۔ ان کی انگلی ٹریگر پر ہے لیکن ان کو ہتھیار ایران فراہم کرتا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر نے اپنے دعوے کو دہراتے ہوئے کہا کہ ان کا ماننا ہے کہ ان حملوں کا ذمہ دار بالآخر ایران ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادی نئے بننے والے بحری اتحاد کے مشن کی نوعیت کے حوالے سے تمام ممکنہ امکانات پر غور کر رہے ہیں، جس کا بظاہر مقصد بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں کی حفاظت اور انصار اللہ کا مقابلہ کرنا ہے۔ بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ یہ اتحاد انصار اللہ سے نمٹنے، ان کے خطرات کو ختم کرنے اور اہم آبی گزرگاہوں کی حفاظت کو برقرار رکھنے کے لیے کافی نہیں ہوسکتا۔ علاقائی اور بین الاقوامی پیشرفت کے حوالے سے بحیرہ احمر کی سلامتی کو برقرار رکھنے میں انصار اللہ کی عسکری اور سکیورٹی اہمیت واضح طور پر ظاہر ہو رہی ہے اور یہ بعض بڑے ممالک کو خطے میں پوزیشن یا اثر و رسوخ کی پوزیشن حاصل کرنے کے لیے مضبوط مقابلہ کرنے پر مجبور کرتی ہے، خاص طور پر بحیرہ احمر کے ساحلی ممالک کے لئے یہ اساسی مسئلہ ہے۔
بلاشبہ بڑے ممالک کا ہدف بین الاقوامی منظر نامے پر اپنے کنٹرول اور اثر و رسوخ کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔ انصاراللہ اس وقت آبنائے باب المندب کے قریب اہم ساحلی مقامات پر موجود ہے اور یہ مسئلہ بحیرہ احمر کے سیاسی اور سکیورٹی مساوات میں نئی پیچیدگیاں پیدا کرسکتا ہے۔ بحیرہ احمر اور علاقائی اور بین الاقوامی جہتوں میں یمن کی فوجی صلاحیتوں کے مظاہرے کا مشاہدہ ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ انصاراللہ غیر متوقع طور پر بحیرہ احمر کے سکیورٹی منظر میں طاقت کے ساتھ نمودار ہوئی ہے، اس لیے بحیرہ احمر میں سرگرم علاقائی طاقتوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ نئے حقائق کا سامنا کرنے کے لیے اپنی پوزیشنوں اور تعلقات میں رد و بدل کریں۔
انصار اللہ اب آبنائے باب المندب کے قریب اہم ساحلی مقامات پر موجود ہے اور یہ مسئلہ بحیرہ احمر کی سیاسی اور سکیورٹی مساوات میں نئی پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔ شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ نے فی الحال یمن کے خلاف فوجی کارروائی کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے، خاص طور پر خطے کے کئی بڑے ممالک جیسے سعودی عرب، مصر، متحدہ عرب امارات وغیرہ کے سرد استقبال کو دیکھتے ہوئے یمن کے خلاف فوجی کارروائی کا فیصلہ ممکن نظر نہیں آرہا ہے۔ خطے کے ممالک فوجی اتحاد کے قیام کے خلاف ہیں اور بحیرہ احمر میں کشیدگی کو کم کرنے اور بحری جہاز رانی کی حفاظت کو برقرار رکھنے کے لیے سفارتی کارروائی کی کامیابی کے حق میں ہیں۔ تاہم سیاسی اور سفارتی کوششیں ابھی تک مطلوبہ نتائج تک نہیں پہنچ سکیں۔
اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا بحیرہ احمر میں تنازعات اور عسکریت پسندی کا دائرہ ایک چنگاری اور ایک نئی جنگ کے ساتھ پھیل جائے گا اور امریکہ اس کے ذریعے علاقائی طاقتوں کے ساتھ براہ راست تصادم میں داخل ہو جائے گا یا یہ خطہ بین الاقوامی اور علاقائی طاقت کی جنگوں کے تناؤ کا یرغمال ہو جائے گا؟ یہ تمام معاملات خطے کے ان ممالک کے موقف اور نقطہ نظر پر منحصر ہیں، جن کے خطے میں سب سے زیادہ بنیادی مفادات ہیں۔


































