Sun Oct 18, 2026

کینیڈا کے فوجی اڈے پر تباہ کن آتشزدگی، ہلاکتوں اور زخمیوں کی تصدیق؛ تحقیقات جاری فرانس میں مہنگائی کے خلاف ملک گیر پُرتشدد احتجاج، پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں، سینکڑوں گرفتاریاں یمنی فوج نے سعودی اپاچی ہیلی کاپٹر مار گرایا، 2 ارکان ہلاک فلسطینیوں کے قتل عام پر خاموش، مصری صدر یمن میں کارروائی کیلئے تیار خطے میں امن کے لیے تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ ضروری ہے، ایرانی نائب وزیر خارجہ امریکی بحریہ کا پاکستانی سرزمین سے ایران کے خلاف کارروائی کا دعویٰ بے بنیاد ہے، وزارت اطلاعات پاکستان نے گبد ریمدان بارڈر پر تجارتی سرگرمیاں معطل کردیں ایران کا انصار اللہ اور سعودی عرب میں ثالثی کی پیشکش کا اعادہ بی بی زینبؑ کا کردار، صبر، بہادری اور ثابت قدمی خواتین کیلئے مشعلِ راہ ہے، ولی امر مسلمین اسرائیل مغربی کنارے میں صیہونی بستیوں کا جبری قیام روکے، چینی وزیرخارجہ امریکا کو ایران کے خلاف کیے گئے مظالم پر سزا ملنی چاہیے، قالیباف یمنی فوج نے سعودی عرب کا جاسوسی اور جنگی ڈرون مار گرایا احمد الشرع کو دھمکی دیکر شام میں دروز برادری کا قتل رکوایا، نیتن یاہو یمن سے مکہ یا مدینہ پر حملے کا دعویٰ جھوٹ ہے، انصار اللہ ایران کی سخت دھمکی، دشمن کے مفادات اور اثاثے بھی نشانے پر ہوں گے

روزانہ کی خبریں

مسلمان مساجد کی بے حرمتی کو ہرگز گوارا نہیں کرسکتے ہیں، مسلم پرسنل لاء بورڈ

نئی دہلی : آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی مجلس عاملہ کا ایک ہنگامی آن لائن اجلاس طلب کیا گیا، جس میں خاص طور پر گیان واپی مسجد اور ملک کی مختلف مسجدوں اور عمارتوں کے سلسلہ میں فرقہ پرست طاقتوں نے جو رویہ اختیار کر رکھا ہے، اس پر تفصیل سے غور و خوض کیا گیا۔ اجلاس میں کہا گیا کہ نفرت پھیلانے والی قوتیں پوری طاقت کے ساتھ جھوٹا پروپیگنڈا کررہی ہیں اور مسلمانوں کے مقدس مقامات کو نشانہ بنا رہی ہیں تو دوسری طرف مرکزی حکومت اور ریاستی حکومتیں جن پر دستور اور قانون کو نافذ کرنے کی آئینی ذمہ داری ہے، خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں، اس پر جو سیاسی پارٹیاں اپنے آپ کو سیکولر اور انصاف پسند کہتی ہیں، وہ بھی خاموش ہیں اور اس جھوٹے پروپیگنڈے کے خلاف انہیں جس طرح میدانِ عمل میں آنا چاہیئے، نہیں آرہی ہیں، ان کو اس مسئلہ پر اپنا موقف واضح کرنا چاہیئے۔ اجلاس میں کہا گیا کہ ہمیں امید ہے کہ وہ جلد سے جلد اپنا موقف واضح کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے دستور اور سیکولر کردار کی حفاظت کے لئے ان کی طرف سے کوئی واضح اور ٹھوس آواز بلند ہوگی۔ اجلاس میں طے کیا گیا کہ ضرورت پڑنے پر پُرامن عوامی تحریک بھی شروع کی جاسکتی ہے۔ اجلاس نے یہ بھی طے کیا کہ بورڈ انصاف پسند ہندو بھائیوں اور دیگر اقلیتی طبقات کو اعتماد میں لے کر مذہبی عبادت گاہوں اور مقدس مقامات کے احترام اور ان کے تحفظ کے سلسلے میں مشترکہ ذمہ داریوں پر رائے عامہ بیدار کرے گا۔ اجلاس نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ 1991 کے عبادت گاہوں سے متعلق قانون کے بارے میں وہ اپنا موقف واضح کرے، ایسے واقعات پر حکومت کی خاموشی ایک مجرمانہ فعل ہے، جو کسی بھی طرح قبول نہیں کیا جاسکتا۔ اجلاس نے مساجد کے خطباء اور علماء سے اپیل کی ہے کہ وہ آئندہ تین ہفتے جمعہ کے بیان میں مسجد کی اہمیت، شریعت میں اس کا مقام و تقدس اور مسجد کے تحفظ جیسے موضوعات پر خطاب کریں، نیز شرپسند عناصر کی طرف سے جو غلط دعوے کئے جارہے ہیں، ان کی علمی اور قانونی تردید پر خطاب کریں۔ اجلاس نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ صبر کا دامن تھامے رہیں، ثابت قدمی سے کام لیں اور اشتعال سے بچتے ہوئے لوگوں کے سامنے اپنا موقف پیش کریں۔

مزید پڑھیے

Most Popular