
خصوصی رپورٹ:
خبر رساں ایجنسی فارس کے بشکیک میں موجود نمائندے کے مطابق مزاحمتی فکر اور عادلانہ عالمی نظام، امام خمینیؒ سے شہید خامنہای تک‘‘ کے عنوان سے ایک بین الاقوامی گول میز کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں قرغیزستان، روس اور ایران سے تعلق رکھنے والے ماہرین، محققین اور سیاسی کارکنوں نے شرکت کی۔ یہ پروگرام قرغیزستان میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفارت خانے اور ثقافتی مرکز کے تعاون سے، جبکہ خبر رساں ایجنسی فارس اور یوریشیا ٹوڈے کی میڈیا شراکت داری کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ اس نشست میں روسی ایران شناس، روسی اکیڈمی آف سائنسز کے ادارۂ مشرقی علوم کی سینئر محققہ اور روس کی ہائی اسکول آف اکنامکس یونیورسٹی کی استاد لانا رواندی فدائی نے مغربی ایشیا کی موجودہ صورتحال اور حالیہ علاقائی واقعات پر گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم مشرقِ وسطیٰ میں محض ایک اور بحران کا مشاہدہ نہیں کر رہے، بلکہ درحقیقت اس علاقائی نظام کے بنیادی اصولوں پر نظرِ ثانی کی بات ہو رہی ہے جو سرد جنگ کے خاتمے کے بعد تشکیل پایا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ کئی دہائیوں تک مغربی ایشیا کی سلامتی بیرونی طاقتوں کی موجودگی کے گرد گھومتی رہی اور یہ تصور پیش کیا جاتا رہا کہ صرف امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی عسکری قوت ہی خطے کے استحکام، سمندری راستوں کے تحفظ اور طاقت کے توازن کو برقرار رکھ سکتی ہے۔ تاہم گزشتہ برسوں کی پیش رفت نے یہ بنیادی سوال کھڑا کر دیا ہے کہ آیا یہ ماڈل واقعی پائیدار سلامتی فراہم کرنے میں کامیاب رہا ہے؟ روسی سیاسی ماہر نے کہا کہ اس سوال کا جواب منفی ہے۔ اسی لیے موجودہ تنازع کو صرف ایران اور اس کے مخالفین کے درمیان ایک الگ تصادم کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا، بلکہ اسے پورے موجودہ علاقائی سکیورٹی نظام کے بحران کے طور پر سمجھا جانا چاہیے۔ رواندی فدائی نے مزید کہا کہ پہلا اہم نکتہ جس پر توجہ دینی چاہیے، عسکری طاقت اور سیاسی نتائج کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلہ ہے۔ معاصر تنازعات یہ ثابت کرتے ہیں کہ جدید ترین ٹیکنالوجی اور واضح فوجی برتری بھی ہمیشہ تزویراتی مقاصد کے حصول کی ضمانت نہیں بن سکتی۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند دہائیوں کی تاریخ اس حقیقت کی متعدد مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ فوجی مہمات اگرچہ بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور ریاستوں و معاشروں کو بھاری نقصانات پہنچانے کا سبب بن سکتی ہیں، تاہم بہت سے مواقع پر فریقِ مقابل کی سیاسی استقامت اور مزاحمتی صلاحیت برقرار رہتی ہے۔ روسی سیاسی ماہر نے مزید کہا کہ ایران کا نقطۂ نظر اس اصول پر قائم ہے کہ اکیسویں صدی میں فیصلہ کن عنصر پہلی ضرب لگانے کی صلاحیت نہیں ہے، جیسا کہ صہیونی حکومت اور امریکہ اختیار کرتے ہیں، بلکہ اصل اہمیت طویل المدت دباؤ اور چیلنجوں کو برداشت کرنے کی صلاحیت کی ہے۔ اسی وجہ سے تاب آوری اور استقامت کا تصور ایران کی حکمتِ عملی کے مرکز میں جگہ رکھتا ہے۔
رواندی فدائی نے وضاحت کی کہ ایران-عراق جنگ کے تاریخی تجربے اور کئی برسوں پر محیط اقتصادی پابندیوں نے ایران میں حکمرانی اور ریاستی نظم کا ایک مخصوص نمونہ تشکیل دیا ہے۔ اس ماڈل میں بنیادی ہدف فوری کامیابی حاصل کرنا نہیں، بلکہ طویل عرصے تک جاری رہنے والے دباؤ کے باوجود ریاستی اداروں کے استحکام اور ملک کے انتظامی ڈھانچے کو برقرار رکھنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب مسئلہ صرف مذاکرات کے متن اور مندرجات تک محدود نہیں رہا بلکہ معاہدوں پر عمل درآمد کے طریقۂ کار پر اعتماد بھی ایک سنجیدہ چیلنج بن چکا ہے۔ ایران کا مؤقف یہ ہے کہ کسی بھی معاہدے کے ساتھ بین الاقوامی ضمانتیں اور مؤثر نگرانی کے نظام موجود ہونے چاہییں۔ روسی ماہر کے مطابق، تہران میں وسیع پیمانے پر یہ تصور پایا جاتا ہے کہ پائیدار امن صرف سیاسی وعدوں کی بنیاد پر قائم نہیں ہو سکتا۔ اسی لیے ضمانتوں کا موضوع بتدریج خود مذاکرات جتنی اہمیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔
رواندی فدائی نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ طویل عرصے تک مغربی سیاسی فکر میں مزاحمت کو زیادہ تر ایک نظریاتی تصور کے طور پر دیکھا جاتا رہا، لیکن حالیہ برسوں کے واقعات نے ثابت کیا ہے کہ مزاحمت بتدریج ایک عملی حکمتِ عملی کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اس حکمتِ عملی سے مراد ریاستوں اور غیر ریاستی عناصر کی وہ صلاحیت ہے جس کے ذریعے وہ اپنے سے زیادہ طاقتور حریف پر نمایاں سیاسی، اقتصادی اور عسکری اخراجات مسلط کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق، اس زاویۂ نگاہ سے مزاحمت محض ایک نعرہ نہیں رہتی بلکہ بین الاقوامی سیاست کا ایک مؤثر آلہ بن جاتی ہے، اور یہ تبدیلی خاص طور پر فوجی ٹیکنالوجی کے میدان میں واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔ روسی ماہر نے کہا کہ لبنان میں حالیہ پیش رفت نے یہ ظاہر کیا ہے کہ نسبتاً کم لاگت والے ڈرون نظام بھی دنیا کی جدید ترین فوجوں کے لیے سنجیدہ چیلنج پیدا کر سکتے ہیں۔ فائبر آپٹک سے لیس ایف پی وی (FPV) ڈرونز، جدید انٹیلی جنس و نگرانی کے طریقے اور غیر متناسب حملوں کے نئے ذرائع، فوجی برتری کی بدلتی ہوئی نوعیت کی نمایاں مثالیں ہیں۔
امریکہ کے مقابلے میں خطے کے ممالک کے رویّوں میں تبدیلی:
انہوں نے مزید کہا کہ مغربی ایشیا کے بحران کا ایک اہم نتیجہ علاقائی ممالک کے رویّوں میں تبدیلی کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ ان کے مطابق، وہ ممالک بھی جو روایتی طور پر امریکہ کے ساتھ قریبی تعاون پر انحصار کرتے رہے ہیں، اب اپنی خارجہ پالیسیوں میں تنوع پیدا کرنے اور علاقائی کشیدگی کم کرنے کی جانب زیادہ مائل دکھائی دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس تبدیلی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ کسی بھی تنازع یا جنگ کی قیمت سب سے پہلے اور سب سے زیادہ خطے کے ممالک کو ہی ادا کرنا پڑتی ہے۔ رواندی فدائی کے مطابق، توانائی کا بنیادی ڈھانچہ، غیر ملکی سرمایہ کاری، نقل و حمل کے راستے اور بحری تجارت، اس بات سے قطع نظر کہ براہِ راست تنازع میں کون شامل ہے، ہمیشہ خطرات کی زد میں آ جاتے ہیں۔ اسی لیے سفارتی ذرائع، مذاکراتی عمل اور ثالثی کی کوششوں کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
روسی ماہر نے مزید کہا کہ اس تناظر میں عمان کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔ ایران کے نقطۂ نظر سے مسقط علاقائی سیاست کے ایک مختلف ماڈل کی نمائندگی کرتا ہے، ایسا ماڈل جو مکالمے، ثالثی اور مختلف مفادات کے درمیان توازن قائم کرنے پر مبنی ہے۔ رواندی فدائی نے اپنی گفتگو میں آبنائے ہرمز کے موضوع پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں تک آبنائے ہرمز کو صرف ایک عالمی اہمیت کے حامل تجارتی اور ترانزٹ راستے کے طور پر دیکھا جاتا تھا، لیکن آج یہ واضح ہو چکا ہے کہ معاملہ صرف توانائی اور نقل و حمل تک محدود نہیں۔ آبنائے ہرمز بتدریج ایک بڑے سوال کی علامت بنتی جا رہی ہے، خطے کی سلامتی کی ذمہ داری آخر کس کے پاس ہونی چاہیے؟ انہوں نے کہا کہ ایران کا مؤقف یہ ہے کہ خلیج فارس کی سلامتی سب سے پہلے اور بنیادی طور پر خود خطے کے ممالک کی ذمہ داری ہونی چاہیے۔ اسی لیے تہران باہمی احترام، عدم مداخلت اور برابری کی بنیاد پر مکالمے کے اصولوں پر مشتمل اجتماعی علاقائی سلامتی کے نظام کی حمایت کرتا ہے۔
روسی ماہر کے مطابق، موجودہ بحران اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ بین الاقوامی نظام کے رجحانات پہلے کی نسبت ایک واحد عالمی طاقت کے فیصلوں سے کم متاثر ہو رہے ہیں۔ اس کے برعکس، علاقائی ممالک، ثالثی کا کردار ادا کرنے والے فریقین اور متبادل سفارتی پلیٹ فارمز کی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس، چین، ایران اور دیگر علاقائی و بین الاقوامی کردار روز بروز نئے تعاون اور باہمی تعامل کے ڈھانچوں کی تشکیل میں زیادہ فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ایک ایسی صورتحال جنم لے رہی ہے جس میں خطے کا مستقبل صرف بیرونی طاقتوں کے ذریعے طے نہیں ہوگا بلکہ مغربی ایشیا کے ممالک خود بھی اس کی سمت کے تعین میں بنیادی کردار ادا کریں گے۔ رواندی فدائی نے اپنی گفتگو کے اختتام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے گرد موجود تنازع غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ درحقیقت یہ بحران موجودہ علاقائی سلامتی کے پورے نظام اور اس کی مؤثریت و پائیداری کو جانچنے کے لیے ایک بڑے امتحان کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
انہوں نے آخر میں مزید کہا کہ آج بنیادی سوال یہ نہیں رہا کہ کس فریق کے پاس زیادہ فوجی طاقت موجود ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ طویل المدت تناظر میں کون سا ماڈل زیادہ پائیدار اور مستحکم ثابت ہوگا، وہ ماڈل جو بیرونی طاقتوں کی سیاسی اور عسکری بالادستی پر قائم ہے، یا وہ ماڈل جو علاقائی ذمہ داری، اجتماعی سلامتی اور خطے کے تمام ممالک کے مفادات کے احترام پر مبنی ہے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ مغربی ایشیا میں ابھرنے والی نئی سیاسی حقیقت دراصل اسی بنیادی سوال کے جواب کی تلاش کے گرد تشکیل پا رہی ہے۔ آج خطے میں جاری سیاسی، سفارتی اور سکیورٹی تبدیلیاں اس امر کا تعین کر رہی ہیں کہ مستقبل کا علاقائی نظم کس بنیاد پر استوار ہوگا اور کون سا تصور زیادہ پائیدار اور مؤثر ثابت ہوگا۔


































